بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

لیکچرارکےلیےغیرحاضری کےدنوں کی تنخواہ لینا


سوال

علمائےدینِ متین اس استاد کےبارےمیں کیا فرماتےہیں جوکسی مدرسےیا یونیورسٹی میں حکومت کی طرف سےاستاداورلیکچرارکی حیثیت سےملازمت پرمقرر ہو، لیکن مقررہ وقت پراپنی ڈیوٹی پرحاضرنہ ہویاضابطےکےخلاف غیرحاضررہے؟ ایسےاستادکےلیےاس ملازمت کی تنخواہ وصول کرنا شرعاً جائزہےیا نہیں؟ نوٹ:یونیورسٹی میں لیکچرارصرف لیکچردینےکےمکلف ہیں یا عام ملازمین کی طرح پورا ٹائم یونیورسٹی میں گزارنےکے۔

جواب

واضح رہےکہ وہ اجیرجوکسی خاص مدت کےاندراپنی خدمات سپردکرکےاجرت کا مستحق بنتاہےاجیرخاص کہلاتاہے۔ اجیرخاص کی ذمہ داری ہےکہ وہ مقررہ مدت میں اپنےآپ کوذمہ داری کےلیےحوالہ کرےاوراس دوران کسی اورکام میں مشغول نہ ہوورنہ وہ اجرت کا مستحق نہیں ہوگا۔ صورت مسؤلہ کےمطابق لیکچراراس وقت تنخواہ لینےکا مستحق ہوتاہے، جب ڈیوٹی کےمقررکردہ اوقات میں وہ ملازمت کی جگہ حاضررہے۔ تاہم حکومتی قوانین کےمطابق جس مقدار میں چھٹیوں کی اجازت ہواگرحسبِ ضابطہ اسی مقدارمیں چھٹیاں کرےتوان چھٹیوں کےایام کی تنخواہ لےسکتاہے، لیکن اگرمقررہ مقدارسےزائدغیرحاضررہتاہے توان ایام کی تنخواہ لیناجائزنہیں۔ نیزادارہ کےقوانین کےمطابق اگرلیکچرارادارہ میں صرف  لیکچردینےکا مکلف ہوتوایسی صورت میں اس کےلیےصرف مقررہ لیکچردیناضروری ہوگالیکن اگرمعاہدہ کےمطابق ادارہ میں کل وقت گزارنا ضروری ہوتوایسی صورت میں حسب ِمعاہدہ مقررہ وقت ساراادارہ میں گزارنےکا پابند ہوگا۔

 

الأجير الذي استؤجر على أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،الباب السادس في بيان أنواع المأجوروأحكامه، الفصل الرابع في بيان إجارة الآدمي، المادة:571، ج:1، ص:657)

والخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير،ج:5، ص:134)

إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء .(الفتاوى الھندية،كتاب الإجارة، الباب الثالث الأوقات التي يقع عليهاعقدالإجارة،ج:4، ص:416)


فتویٰ نمبر : 4220/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں