بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

گواہوں کی کمی کی صورت میں رضاعت کاثبوت


سوال

ایک مسئلہ پوچھنا ہےمیری بیٹی کے رشتے کامعاملہ ہے،لڑکے نے میری والدہ کا دودھ پیا تھا، اور تعداد ایک بار ہے۔ جس نے دودھ پلایا اس کےعلاوہ ایک گواہ ہے،اورکسی کو اس بات کا علم نہیں، نہ ہی کوئی اورگواہ ہے۔فقہ حنفی کے مطابق گواہوں کی تعداد شرعی طور پر مکمل نہیں،کیا گواہوں کی کمی کی وجہ سے فقہ حنفی میں گنجائش نکل سکتی ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ رضاعت دو چیزوں سےثابت ہوتی ہےایک اقراراوردوسری بینہ یعنی دوعادل مردوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کی گواہی سے، تاہم اگر کسی ایک مرد یا عورت کی بات سے دل میں یہ گمان پیداہوجائےکہ یہ بات سچ ہوگی، تونکاح سے پہلے اس پر اعتماد کرتے ہوئے شادی سے پرہیز کرنا چاہیے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرواقعی رضاعت پر دوعادل مرد یا ایک مرد اوردوعورتیں بطورگواہ نہ ہوں اورلڑكا اس دودھ پینے کا اقراربھی نہ کرے تورضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ تاہم اگر دودھ پلانے والی کی بات سچ ہونےپرغالب گمان ہوتو احتیاط کاتقاضاہےکہ اس رشتے سےاحتراز کیا جائے۔

 

الرضاع يظهر بأحد أمرين أحدهما الإقرار والثاني البينة كذا في البدائع ولا يقبل في الرضاع إلا شهادة رجلين أو رجل وامرأتين عدول. (الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1، ص:347)

ولا يجوز شهادة امرأة واحدة على الرضاع أجنبية كانت، أو أم أحد الزوجين، فإن وقع في قلبه صدق المخبر، فالأفضل أن يتنزه قبل العقد وبعده يسمع المقام معه، حتى يشهد على ذلك رجلان أو رجل وامرأتان عدول، ولا يقبل شهادة النساء وحدهن.(خلاصة الفتاوى،كتاب النكاح،الفصل الرابع في الرضاع،ج:2،ص11)


فتویٰ نمبر : 7528/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں