بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

موبائیل سامان بھیجنا اور انٹرنیٹ پیکج کرنا


سوال

میرا پی سی او کا کاروبار ہے، جس میں موبائل فون کا سامان، ایم پی تھری وغیرہ فروخت کرتا ہوں۔ اسی طرح میں گاہکوں کے موبائل نمبرز پر مختلف انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پیکجز بھی لگاتا ہوں، مثلاً ٹک ٹاک، واٹس ایپ، فیس بک اور آل ڈیٹا وغیرہ۔اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں کوئی ایم پی تھری یا موبائل کا سامان کسی شخص کو فروخت کرتا ہوں اور وہ شخص بعد میں اسے گانے سننے یا کسی ناجائز کام میں استعمال کرتا ہے، تو کیا اس کے اس گناہ کا وبال مجھ پر بھی ہوگا؟اسی طرح اگر میں کسی شخص کو انٹرنیٹ کا پیکج، مثلاً ٹک ٹاک، واٹس ایپ، فیس بک یا آل ڈیٹا پیکج لگا کر دیتا ہوں، پھر وہ شخص اس انٹرنیٹ کو ناجائز ویڈیوز دیکھنے، گانے سننے یا دیگر گناہ کے کاموں میں استعمال کرتا ہے، تو کیا اس کے اس ناجائز استعمال کا گناہ مجھے بھی ہوگا؟اور اگر مجھے پہلے سے معلوم نہ ہو کہ وہ شخص انٹرنیٹ کا ناجائز استعمال کرے گا، تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے پیکج لگانے کی اجرت لینا اور یہ کاروبار کرنا شرعاً جائز ہوگا؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں جواب دے۔

 

جواب

واضح رہے کہ جس چیزکی ساخت کااصل مقصدحرام اورناجائزکام میں استعمال ہونانہ ہو،بلکہ  جائزاورناجائزدونوں میں استعمال کیاجاسکتاہو،تواس کی خریدوفروخت ، اور کاروبار جائزہے۔

 ایم پی تھری یا موبائیل سامان ایسی اشیاء میں داخل ہیں کہ جن  کا اصل مقصد ناجائز نہیں،اسی طرح انٹر نیٹ بھی ہےاس لیے اگر کوئی اس کو ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرے تو دکان دار گناہ گار نہ ہوگا۔

 

وعرف بهذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به كبيع الجارية المغنية والكبش النطوح والحمامة الطيارة والعصير والخشب الذي يتخذ منه المعازف.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الجھاد،باب البغاۃ،مطلب فی کراھیة ماتقوم المعصیة بعینه،ج:6ص:421)


فتویٰ نمبر : 4207/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں