بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

اہل محلہ کا مسجد کی بجلی استعمال کرنا


سوال

ایک مسجد میں پورے گاؤں کے امیر و غریب سب کے حسبِ توفیق چندے سے خالص مسجد اور مدرسے کے استعمال کے لیے ایک سولر سسٹم لگایا گیا۔ جس مسجد میں یہ لگا ہے، اس محلے میں پانی کی شدید قلت ہے۔ بجلی نہ ہونے کی صورت میں لوگ جنریٹر میں پیٹرول ڈال کر پانی بھرتے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص مسجد کے سولر سے موٹر لگاتا ہے یا اپنے گھر کی بیٹری یا موبائل وغیرہ چارج کرواتا ہے، تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر محلے کے لوگ مل بیٹھ کر یہ مشورہ کر لیں کہ دن کے وقت تو ویسے بھی سورج کی روشنی سے بجلی بنتی ہے، اس لیے اگر کوئی موٹر لگائے گا تو وہ فی گھنٹہ پانچ سو روپے یا حسبِ مشورہ مسجد میں جمع کرے گا، جس سے مسجد کی دیگر ضروریات پوری کی جائیں گی (جیسے جھاڑو، واشرومز کے لیے تیزاب، برش، لوٹے وغیرہ)تو کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کی مملوکہ اشیاء اور بجلی وغیرہ اگر مسجد کی ضرورت سے زائد ہوں اور فی الحال اس کی مسجد کو کوئی ضرورت نہ ہو، تواسے معقول عوض کے بدلے فروخت کرکے مسجد کے مصارف میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نیز عام طور پر مسجد میں چندہ دینے والے مسجد کی بنیادی ضروریات کے ساتھ دیگر معمولی نوعیت کے مصارف بھی ملحوظ رکھتے ہیں، اس لیے بوقتِ ضرورت مسجد میں موبائل فون چارج کرنے کی گنجائش ہوگی۔ البتہ موٹر لگانا یا گھر کی بیٹری چارج کرنا چونکہ زیادہ بجلی کا متقاضی ہے، اس لیے یہ ذاتی طور پر بلا اجازت اور بلا عوض استعمال کرنا جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں اگر مسجد کا سولر سسٹم اضافی بجلی پیدا کر رہا ہو اور اس اضافی بجلی کی مسجد کو ضرورت نہ ہو، تو معقول عوض کے بدلے اسے فروخت کرنا جائز ہوگا، اور اس رقم کو مسجد کی ضروریات میں استعمال کیا جائے گا۔

 

الفاضل ‌من ‌وقف المسجد هل يصرف إلى الفقراء؟ قيل:لا يصرف وأنه صحيح ولكن يشتري به مستغلا للمسجد. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادى عشر في المسجد، ج:2، ص:463)

‌ينقل ‌الحصر والحشيش إلى مسجد آخر على الصحيح من مذهب أبي يوسف أو يبيعها القيم لأجل المسجد. (دررالحكام شرح غررالأحكام، كتاب الوقف، ج:2، ص:135)

والإذن دلالة بمنزلة الإذن إفصاحا كما في شرب ماء السقاية وكمن نصب القدر على الكانون وجعل فيه اللحم وأوقد النار تحته فجاء إنسان وطبخه لم يكن ضامنا لوجود الإذن دلالة. (المبسوط للسرخسي، كتاب الحج، ج:4، ص:160)

متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوی الهندية، الباب الحادي في المسجد وما يتعلق به، الفصل الثاني في الوقف، ج:2، ص:462)


فتویٰ نمبر : 4215/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں