بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 24/10/2026 |
دارالافتاء
قسطوں پر لی ہوئی چیز کی بقیہ قسطوں پر زکوۃ
سوال
1.میرا ایک دوست ہےجو کارپٹ کاکاروبار کرتاہےاور اس کی ذاتی دکان میں دو کروڑ کا مال موجود ہے اس پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ 2. قسطوں پر دو عدد پلاٹ خریدے ہیں جن کی کل قیمت 40 لاکھ روپے ہے ،آدھے پیسے اداکئے ہیں اورآدھے باقی ہیں ،نیزپلاٹوں پر قبضہ نہیں ملا ،کیا ان پلاٹوں پر سال گزر نےپر زکوٰۃ ہوگی یانہیں ؟ اسی طرح ایک اور پلاٹ خریدا ہے جس کی کل قیمت 11 لاکھ روپےہے جس کی کچھ رقم اداکی ہےاور کچھ باقی ہے لیکن یہ بھی قسطوں پرخریدا ہے پراپرٹی والوں نے نہ قبضہ دیا ہے نہ پلاٹ کی جگہ متعین کی ہےبلکہ صرف پلاٹ نمبر بتایا ہےکیا اس پلاٹ پر زکوٰۃ ہوگی یا نہیں؟ 3.اسی طرح کاروبار کےلئے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے قرض لئے ہیں کیا اس صورت میں اس شخص پر زکوٰۃ دینا لازم ہوگی؟ 4۔چھ مہینے پہلے دس لاکھ کیش بھی موجود تھا اس صورت میں زکوٰۃ کا حکم کیا ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ جو شخص کسی مال تجارت کا مالک ہواوروہ مقدار نصاب کو پہنچے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہےالبتہ جتنے دیون(قرضے) اس کے ذمے لازم ہوں ان کو منہا کرے گا اور باقی مال اگر بقدر نصاب رہتا ہو تو اس کی زکوۃ ادا کرے گا۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ جو پلاٹ تجارت کی نیت سے خریدا جائےاورپلاٹ کی حدود متعین ہوں تواگرچہ مشتری کو قبضہ نہ ملا ہو، اس پر زکوۃ واجب ہوتی ہےکیونکہ قبضہ کے بغیر بھی محض خریدنے سے ملکیت آ جاتی ہے البتہ زکوۃ کی ادائیگی قبضہ کے بعد بھی ہوسکتی ہے کہ جب قبضہ ملے تو گذشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کرے۔ ہر سال کی زکوۃ ادا کرتے وقت اس سال پلاٹ کی بازاری قیمت کا اعتبار ہوگا۔البتہ ہر سال کی زکوۃ ادا کرتے وقت اس سال پلاٹ کی قیمت سےپچھلےسالوں کی ادا شدہ زکوۃ کو منہا کیا جائے گااوراگر صرف پلاٹ کانمبر دیاگیاہولیکن اس کی حدود متعین نہ ہوں توپھرملکیت ثابت نہ ہونےکی وجہ سے زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق 1۔سال پورا ہونے پرمال تجارت کاحساب لگایاجائےگااور قرضوں کونصاب سے منہاکیاجائےگا، بقیہ رقم اگر زکوۃ کے نصاب کو پہنچتی ہوتواس پر زکوۃ لازم ہوگی ورنہ نہیں۔
2۔اگر پلاٹ تجارت کی نیت سے خریدے ہوں تواگرپلاٹ کے حدود متعین ہوں اگرچہ قبضہ نہ ہوا ہوتواسے نصاب میں شمار کرکے زکوۃ ادا کی جائےگی اورجس پلاٹ کاصرف نمبر دیاگیاہے تواگراس کے حدود متعین نہ کئے گئےہوں تو اس میں زکوۃ واجب نہ ہوگی۔
3۔کاروباری قرضوں کومکمل قابل زکوۃ اموال (نقدی،سونا،چاندی،مال تجارت)کےمجموعے سے منہاکیاجائےگااگر بقیہ نصاب تک پہنچےتوزکوۃ فرض ہوگی ورنہ نہیں ۔
4۔ اگرمال زکوۃ کاسال پورا ہوتےوقت سائل کی ملکیت میں دس لاکھ روپےنقد موجودتھے تو ان کوبھی مال زکوۃ میں شمارکرکے زکوۃ اداکی جائےگی ۔
قدمنا أن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري. وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض قيل لا يكون نصابا لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعاً، اه. فعلى هذا قولهم "لا تجب الزكاة" معناه قبل قبضه، وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي. (البحر الرائق،2/ 225)
سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبه للحول لحولانه عليه (تام) .....،(فارغ عن دين له مطالب من جهة العباد) .....،(و) فارغ (عن حاجته الاصلية) لان المشغول بها كالمعدوم.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار،ص:126)
(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة. ( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:172)
(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة. ( الفتاوى الهندية، كتاب الزكوة، ج:1، ص:234)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں