بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں جنابت پیش آنے کی صورت میں تیمم كرنا


سوال

اگر کسی آدمی کو مسجد میں جنابت لاحق ہو جائے تو وہ مسجد سے تیمم کر کے نکلے یا تیمم کے بغیر اپنے کپڑے کو لے کر نکل سکتا ہے خصوصا جب کہ تبلیغی جماعت میں ہو؟

جواب

واضح رہے کہ جب کسی شخص کو مسجد میں سوتے ہوئے احتلام ہوجائے، تو بیدار ہوتے ہی مسجد کے فرش یا دیوار پر ہاتھ مار کر شرعی طریقے کے مطابق تیمم کرے، پھر جہاں اس کے کپڑے رکھے ہوئے ہوں وہاں سے کپڑے لے کر فوراً مسجد سے نکل جائے اور مسجد سے باہر جاکر غسل جنابت کرے، تاہم اگرمسجد سے نکلنے کی صورت میں اسے کسی جانور یا دشمن وغیرہ کا خوف ہو تو ایسی صورت میں تیمم کرکے خوف کے ازالے تک مسجد میں ٹھہر سکتا ہے۔

 

ولوکان نائما فاحتلم والماء خارجہ وخشی من الخروج یتیمم وینام فیہ الی ان یمکنہ الخروج ،قال فی المنیۃ: وان احتلم فی المسجد یتیمم للخروج اذا لم یخف وان خاف یجلس مع التیمم ولا یصلی ولا یقرأ۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الطهارة،ج:1،ص:243)

إذا خاف الجنب أو الحائض سبعا أو لصا أو بردا فلا بأس بالمقام فيه والأولى أن يتيمم تعظيما للمسجد. هكذا في التتارخانية۔ (الفتاوی الھندیۃ،كتاب الطهارة،ض:1،ص:38).


فتویٰ نمبر : 11087/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں