بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

موبائل کے استعمال نہ کرنے پر قسم کھانا


سوال

ایک شخص  نے اپنے بیٹے سے کہا: "اللہ کی قسم! اب تم یہ موبائل مجھ سے استعمال نہیں کر سکو گے"۔ اس کے بعد والد نے وہ موبائل ایک دکاندار کو فروخت کر دیا۔ بعد ازاں بیٹے نے اسی دکاندار سے وہی موبائل خرید لیا اور اسے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ والد کے مذکورہ الفاظ شرعاً قسم کے حکم میں شمار ہوں گے یا نہیں؟ اگر یہ الفاظ قسم کے حکم میں ہوں، تو کیا دکاندار سے موبائل خریدنے کے بعد بیٹے کا اس موبائل کو استعمال کرنے سے والد حانث ہوگا؟ واضح رہے کہ موبائل اصل میں بیٹے کی ملکیت تھا اور وہی اسے استعمال کررہا تھا والد نے بیٹے کا موبائل فروخت کردیاتاکہ بیٹا موبائل استعمال نہ کرسکے۔

 

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی آدمی مستقبل میں کسی کام کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھائے،تو یہ  یمین منعقدہ کہلاتی ہے، اور قسم توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔ نیز اگر کوئی کسی دوسرے کے کام کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھائے،تو بھی قسم منعقد ہوگی اورحانث ہونے کی صورت میں کفارہ لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ میں چونکہ باپ نے اللہ کے نام پر قسم کھائی ہے کہ تم مجھ سے موبائل استعمال نہیں کرسکوگے،اس لیے اس کا قسم منعقد ہوا اور بیٹے کا موبائل دوبارہ دکاندار سے خرید کراستعمال کرنےپر باپ حانث ہوکر اس پر کفارہ لازم ہوگا۔

 

واليمين المنعقدةهي الحلف على الأمر المستقبل أن يفعله أولا يفعله فإذا حنث في ذلك لزمته الكفارة.(مختصرالقدوري،كتاب الأيمان،ص:209)

 قال لغيره: والله لتفعلن كذا فهو حالف، فإذا لم يفعله المخاطب حنث إلخ فعلم أنه في حلفه لا يدخل فلان داره يحنث بدخوله وإن نهاه الحالف لأنه وجد شرط الحنث.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الطلاق،ج:3،ص:380)


فتویٰ نمبر : 11097/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں