بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مہرِ معجل کی عدم وصولی سے صدقہ فطر و قربانی کا حکم


سوال

کیا شوہر کے ذمے جو "مہرِ معجل" (فوری ادا کیے جانے والا مہر) ہوتا ہے، اسے وصول کیے بغیر یا ہاتھ میں آئے بغیر بیوی کو "مالدار" (صاحبِ نصاب) مانا جائے گا یا نہیں؟اگر مالدار مانا جائے تو کیا اس پر قربانی اور صدقہ فطر واجب ہوگا؟ اگر شوہر مہر کی ادائیگی نہ کرےتو کیا بیوی زکوٰۃ لے سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عورت کا  خاوند مالدار ہو اور اس  کے ذمے مہر معجل ہو تو مہر  وصول کیے بغیر بھی عورت مالدار شمار ہوگی ۔لیکن اگر شوہر غریب ہو تو ایسی صورت میں  مہر پر قبضہ کیے بغیر عورت مالدار شمار نہ ہوگی۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر  شوہر مالدار ہو تو مہر معجل پر قبضہ کیے بغیر اگر عورت کا موجودہ مال مہر کو ملا کر نصاب کو پہنچتا ہوتو عورت  مالدار شمار ہوگی اور اس کے ذمہ قربانی اور صدقہ فطر واجب ہوگااور زکوٰۃ نہیں لے سکتی  ۔

 

والمرأة موسرة بالمعجل لو الزوج مليا وبالمؤجل لا.(ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الأضحية،ج:6،ص:312)


فتویٰ نمبر : 7527/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں