بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مختلف ملکوں کی کرنسی میں تبادلہ کرتے وقت کمی بیشی کرنا


سوال

میں کاروبار کرتا ہوں۔ اس کاروبار میں چینی کرنسی RMB (یوآن) استعمال ہوتی ہے۔ جب میں چین سے موبائل خریدتا ہوں تو اس کی رقم RMB میں ادا کرتا ہوں۔ مثلاً اگر ایک لاکھ (100,000) RMB کے موبائل چین سے خریدوں اور اس وقت ایک RMB کا ریٹ پاکستانی روپے میں 40 روپے ہو، تو ایک لاکھ RMB کے بدلے 40 لاکھ پاکستانی روپے بنتے ہیں۔ اب اگر کسی وقت مارکیٹ میں RMB کا ریٹ 40 روپے سے بڑھ کر 41 روپے ہو جائے، تو ایک لاکھ RMB کی قیمت 41 لاکھ پاکستانی روپے بن جاتی ہے، یعنی پہلے کے مقابلے میں ایک لاکھ روپے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک شخص سے 100,000 RMB (ایک لاکھ چینی یوآن) قرض لیتا ہوں۔ جس وقت میں نے یہ قرض لیا، اس وقت مارکیٹ میں ایک RMB کا ریٹ 40 پاکستانی روپے تھا۔ اس حساب سے ایک لاکھ RMB کی مارکیٹ قیمت 40 لاکھ پاکستانی روپے بنتی تھی۔ لیکن جس شخص سے میں نے قرض لیا، اس نے مجھے قرض دیتے وقت ایک RMB کا ریٹ 41 پاکستانی روپے کے حساب سے لگایا۔ یعنی اس نے مجھے ایک لاکھ RMB دیے، لیکن حساب میں ان کی قیمت 41 لاکھ پاکستانی روپے مقرر کی، جبکہ اس وقت مارکیٹ ریٹ کے حساب سے ان کی قیمت صرف 40 لاکھ روپے تھی۔ یعنی قرض دینے کی وجہ سے مارکیٹ ریٹ 40 روپے ہونے کے باوجود ایک روپیہ فی RMB زیادہ لگایا گیا، جس سے مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے زائد ہو گئے۔ اب طے یہ ہوا کہ میں ایک ماہ بعد اسے 41 لاکھ پاکستانی روپے واپس کروں گا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح 100,000 RMB قرض دے کر 41 لاکھ پاکستانی روپے دینا شرعاً جائز ہے؟ جبکہ قرض دیتے وقت مارکیٹ ریٹ 40 روپے تھا اور 41 روپے کا ریٹ صرف قرض دینے کی وجہ سے لگایا گیا، تو کیا یہ اضافی ایک لاکھ روپے سود (ربا) کے حکم میں ہوں گے؟ مفتی صاحب! یہاں پر جنس بدل جاتی ہے یعنی میں پاکستانی روپے دوں گا اور وہ مجھے چینی RMB دیتا ہے۔ اگر یہ صورت ناجائز ہے، تو اس کا شرعی طور پر درست طریقہ کیا ہوگا؟

 

جواب

واضح رہے کہ ایک ملک کی کرنسی  کو دوسرے  ملک کی کرنسی کے عوض کمی بیشی کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ایک کرنسی پر مجلس عقد میں پوری طرح قبضہ پایا جائے، چنانچہ اگر کسی ایک طرف سے بھی قبضہ نہ ہو تو معاملہ ناجائز ہوگا۔

صور ت مسئولہ  میں جب یوآن کے بدلے پاکستانی روپیہ اداکرنا طے ہو تو شرعایہ قرض نہیں بلکہ بیع کا معاملہ ہے۔ اس لیےیوآن  کو روپیہ کے بدلے اگر ادھار ارکیٹ ویلیو سے زیادہ قیمت پر بیچے تو جائز ہے بشرطیکہ مجلس عقد میں ایک کرنسی پر قبضہ کیا جائےاوردوسری طرف کرنسی کی مقدار اورادائیگی کی مدت معلوم ہو۔

 

(باع فلوسا بمثلها أو بدراهم أو بدنانير فإن نقد أحدهما جاز)وإن تفرقا بلا قبض أحدهما لم يجز۔ (ردالمحتار على الدر المختار، باب الربا، ج:5، ص:179)

البيع مع تأجيل الثمن و تقسيطه صحيح۔۔۔ يلزم ان تكون المدة معلومة فى البيع بالتأجيل، و التقسيط أي أنه يلزم أن يكون الأجل معلوم الوقت عند كلاالعاقدين، لأن جهالة تفضي الى النزاع۔  (شرح المجلة لسليم رستم باز، كتاب البيوع، الباب الثاني، المادة:245، ص:125)


فتویٰ نمبر : 4221/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں