بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

ڈپریشن میں طلاق


سوال

ہماری بھتیجی کا شوہر بیوی کو بہت مارتا ہے اور اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو بھی بہت مارتا ہے تقریبا چار پانچ ماہ سے سلسلہ جاری ہے۔ کچھ دن پہلے چھریاں بھی تیز کروا کے رکھی تھیں بیوی اور بچوں کو مارنے کے لیے اور ہتھوڑی بھی رکھی تھی اور بولتا تھا کہ میں تم سب کو ماروں گا۔ کافی عرصے سے ڈپریشن میں بھی مبتلا تھا اور بے روزگار بھی تھا مالی حالات کی وجہ سے بہت بہت ٹینشن میں تھا۔تین دن پہلے گھر میں بہت لڑائی کی،  بیوی بچوں کے ساتھ تو بچے اور بیوی نیچے اپنے سسر کے پاس آگئے اور بھتیجی نے شوہر کے چچا اور اپنے بھائیوں کو بھی بلا لیا کہ ہمیں مار پیٹ سے بچائے۔ بھتیجی کے شوہر نے بیوی کے بھائیوں اور اپنے چچا وغیرہ کو دیکھا تو غصے میں آگیا اور سیڑھیوں پہ کھڑے ہو کر پہلے اپنی بیوی کو لعنت دی اور اسی ٹائم تین دفعہ طلاق کا لفظ  اپنی بیوی کے لئے استعمال کیا  ۔ بقول ہماری بھتیجی کے کہ یہ کچھ دنوں سے بہت ڈپریشن میں تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس حالت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے کیونکہ وہ نہ ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا اور نہ ہی ڈاکٹر نے کوئی دوائی دی تھی اور نہ ہی آس پاس اور نہ ہی خاندان میں یہ مشہور تھا کہ یہ نفسیاتی مریض ہے۔ بلکہ طلاق دیتے وقت اس کو یہ غصہ زیادہ تھا کہ میری بیوی بچوں نے میرے چچا اور اپنے بھائیوں کو کیوں بلایا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ طلاق جس طرح عام حالات میں واقع ہوتی ہے اسی طرح غصے کی حالت میں بھی واقع ہوتی ہے، بلکہ عام طور پر طلاق غصہ کی حالت میں ہی دی جاتی ہے، نیز یہ کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہے تو اس سے وہ مغلظہ ہوجاتی ہے اور اس کے بعد وہ عورت اس پہلے شوہر کے نکاح میں اس وقت آسکتی ہے، جب وہ كسی دوسرے آدمی کے ساتھ نکاح صحیح کرلے اور وہ اپنی مرضی سے اس کو جماع کے بعد طلاق دے یا وفات پائے اور عورت اس سے عدت پوری کرے۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق مذکورہ شخص نے جب غصے کی حالت میں تین مرتبہ طلاق کا لفظ بیوی کے لئے استعمال کیا ہے، تو اس کی بیوی  کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ مغلظہ شمار ہوگی، تاہم اگر مذکورہ آدمی مدہوش ہو، یعنی واقعی اس کی حالت ڈپریشن کی وجہ سے ایسی ہو، کہ اس کو اپنے قوی پر کنٹرول نہ ہو، اور اس کو حالات کا کچھ پتہ نہ چلتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کی دی ہوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔

 

لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش. ( رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الطلاق، ج:3، ص:244)

إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الطلاق، ج:3، ص:244)

(وينكح) مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالاجماع ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول وما في المشكلات باطل أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره). (الدر المختار شرح تنوير الابصار، ص:205)


فتویٰ نمبر : 7543/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں