بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
مالک کی اجازت کے بغیر سامان دوسرے ٹرانسپورٹر کے حوالے کرکے اس کے عوض رقم لینا
سوال
جیسا کہ معلوم ہے کہ افغان مہاجرین افغانستان جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک شخص کراچی سے اپنے ساز و سامان کے ساتھ افغانستان روانہ ہوا۔ کراچی میں اس نے ایک ٹرانسپورٹر (گاڑی والے) سے متعین اجرت پر یہ معاہدہ کیا کہ وہ اسے اس کے ساز و سامان سمیت افغانستان میں مقررہ مقام تک پہنچائے گا۔ لیکن جب گاڑی سرحد (بارڈر) پر پہنچی تو وہاں موجود ایک دوسرے ٹرانسپورٹر نے کراچی گاڑی والے سے کہا: یہ ساز و سامان میرے حوالے کر دو، میں اسے بلا معاوضہ مقررہ منزل تک پہنچا دوں گا، بلکہ اس کے علاوہ تمہیں ایک لاکھ روپے بھی دوں گا۔ کراچی گاڑی والے نے اس پیش کش کو قبول کرتے ہوئے ساز و سامان مذکورہ دوسرے ٹرانسپورٹر کے حوالے کر دیا۔واضح رہے کہ بارڈر پر موجود ٹرانسپورٹر اس ساز و سامان کو بلا معاوضہ منزل تک پہنچانے اور کراچی گاڑی والے کو ایک لاکھ روپے دینے پر اس لیے آمادہ تھا کہ وہ واپسی پر سرحد پار کرکے اسمگلنگ کے ذریعے سامان لاتا ہے، جس سے اسے خاطر خواہ منافع حاصل ہوتا ہے۔ مزید برآں، کراچی گاڑی والا سامان کے مالک سے اس حقیقت کو مخفی رکھتا ہے اور گاڑی میں خرابی کا بہانہ بنا کر اسے دھوکے میں مبتلا کرتا ہے، پھر اس کا ساز و سامان دوسرے ٹرانسپورٹر کے حوالے کر دیتا ہے۔ اب دریافت طلب امور یہ ہیں: 1. مذکورہ طریقۂ کار شرعاً کیسا ہے؟ 2. کراچی گاڑی والے نے بارڈر پر موجود ٹرانسپورٹر سے جو ایک لاکھ روپے وصول کیے ہیں، اس رقم کا شرعی حکم کیا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شریعت نے معاملات میں امانت، دیانت اور باہمی معاہدوں کی پابندی کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اس لیے کسی شخص کے مال یا حق سے متعلق اگر کوئی معاملہ ہو تو اس میں مالک کی رضامندی اور طے شدہ شرائط کی پابندی ضروری ہے۔ گاڑی میں سامان لے جانے والے کی حیثیت اجیر کی ہوتا ہے اس لیے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا سامان دوسرے کو حوالہ کرنا جائز نہیں اگر حوالہ کر دیا اور وہ ہلاک ہوگیا تو گاڑی والا ضامن ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر سامان کے مالک نے کراچی کے ٹرانسپورٹر کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ آپ خود ہی اس سامان کو منزل تک پہنچائیں گے، تو اس صورت میں ٹرانسپورٹر کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ دوسرے کو حوالہ کرے، اور گر مالک نے یہ شرط نہ لگائی تھی کہ آپ کسی کے حوالہ نہیں کریں گے تو پھر ٹرانسپورٹر کے لیے سامان دوسرے کو حوالہ کرنا جائز تھا ۔
نیزکراچی والے کا دوسرے ٹرانسپوٹر کو مال حوالہ کر کے اس سے ایک لاکھ روپے وصول کرنا چونکہ بلا عوض ہے۔ اس لیے یہ کسی جائز عقد کے تحت داخل نہیں ۔
قال الله تعالى:﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا﴾ [الإسراء: 34]
وقال تعالى:﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المائدة: 2]
وليس له أن يدفع الوديعة إلى غيرهم، إلا لعذر، حتى لو دفع، تدخل في ضمانه؛ لأن المالك ما رضي بيده، ألا يرى أنه لا يرضى مال نفسه بيده، فإذا دفع؛ فقد صار مخالفا، فتدخل الوديعة في ضمانه إلا إذا كان عن عذر. (بدائع الصنائع، ج:6، :208)
(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية. (رد المحتار علی الدر المختار، ج:4، ص:268)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں