بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

رہائشی علاقے میں شور وآلودگی پیدا کرنے والے کارخانے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے رہائشی علاقے (Residential Area) میں ہمارے گھر کے قریب لکڑی اور فرنیچر کا کارخانہ قائم کیا ہے، جہاں آرا اور دیگر بھاری مشینیں چلائی جاتی ہیں۔ ان مشینوں کے مسلسل شدید شوراورارتعاش کی وجہ سے اہلِ محلہ کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، گھروں میں لرزش محسوس ہوتی ہے اور لکڑی کے گردوغبار سے صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ رہائشی علاقے میں ایسا کارخانہ قائم کرنا اور اس طرح بھاری مشینیں چلانا، جس سے پڑوسیوں کو شور، گردوغبار، ارتعاش اور جسمانی و ذہنی تکلیف پہنچے، شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر اس سے پڑوسیوں کو ضرر پہنچ رہا ہو تو کیا انہیں یہ کارخانہ بند کروانے یا کسی دوسری جگہ منتقل کروانے کا شرعی حق حاصل ہے؟

جواب

اسلام نے انسان کے بنیادی حقوق میں جان، مال، سکون اور عزتِ نفس کے تحفظ کو بڑی اہمیت دی ہے۔ بالخصوص پڑوسی کے حقوق کے بارے میں شریعت نے نہایت تاکید فرمائی ہے۔ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے جائز حقِ ملکیت یا کسی مباح کاروبار کو اس انداز سےانجام دے کہ اس کے نتیجے میں دوسرے لوگوں کو غیر معمولی اور ناقابلِ برداشت ضرر پہنچے۔ نبی کریم ﷺ نے پڑوسی کو ایذا دینے سے سختی سے منع فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کی قسم! وہ شخص کامل مومن نہیں جس کے شر اور ضرر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ فرنیچر کارخانے کی بھاری مشینوں سے پیدا ہونے والا شور، ارتعاش  اور گردوغبار واقعی اہلِ محلہ کو واضح طور پر مسلسل ضرر پہنچا رہا ہو، تو اس ضرر کے ساتھ کارخانہ چلانا جائز نہیں ہے ،مالک پر لازم ہے کہ  ایسے مؤثر انتظامات کرے جن سے یہ ضرر ختم یا قابلِ برداشت ہوجائے۔ اگر مناسب تدابیر سے ضرر ختم نہ ہوسکے تو اہلِ محلہ قانونی طریقہ کار کے مطابق اس سے  دوسری جگہ منتقل ہونے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ تاہم اہل محلہ قانونی طریقہ کارکو اپنائے بغیر اس کے کارخانے کو بند کروانے کا اختیار نہیں رکھتے۔

 

أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (والله لا يؤمن، والله لا يؤمن، والله لا يؤمن). قيل: ومن يا رسول الله؟ قال: (الذي لا يأمن جاره بوائقه).(صحيح البخاري، كتاب الأداب، باب: إثم من لا يأمن جاره بوائقه، ج:5، ص:2240، رقم الحديث:5670)

عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يشكو جاره قال: اذهب فاصبر فأتاه مرتين أو ثلاثا، فقال: اذهب فاطرح متاعك في الطريق فطرح متاعه في الطريق، فجعل الناس يسألونه، فيخبرهم خبره، فجعل الناس يلعنونه، فعل الله به، وفعل، وفعل، فجاء إليه جاره، فقال له: ارجع لا ترى مني شيئا تكرهه.(سنن أبي داود، باب في حق الجوار،ج:4، ص:504، رقم الحديث:5153)

(ولا يمنع الشخص من تصرفه في ملكه إلا إذا كان الضرر) بجاره ضررا (بينا) فيمنع من ذلك، وعليه الفتوى.(الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب القضاء، باب:كتاب القاضي إلى القاضي وغيره، ص:477)


فتویٰ نمبر : 6829/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں