بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
بینک میں بطور حفاظت رقم رکھنا
سوال
میں نے سنا ہے کہ جو لوگ بینکوں میں اپنی رقم اس بنیاد پر رکھتے ہیں کہ اس کی حفاظت ہو، لیکن بینک والے اس رقم سے سودی کاروبار کرتے ہیں۔ چاہے کوئی بھی بینک ہو، موجودہ وقت میں کوئی ایسا بینک نظر نہیں آتا جو سود سے پاک ہو۔ اس صورت میں ہم جو اپنے پیسے تحفظ کے طور پر بینک میں رکھتے ہیں، اگر بینک والے اس رقم پر سودی کاروبار کریں تو کیا ہمیں بھی اس سود کا گناہ ملے گا؟
جواب
واضح رہے کہ بینک میں جو رقم حفاظت کی نیت سے کرنٹ اکاونٹ میں رکھی جاتی ہے، اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، چاہے غیرسودی بینک ہو یا روایتی سودی بینک، اس اکاونٹ میں رقم رکھنے کی شرعا گنجائش ہے، کیونکہ یہ رقم اکاؤنٹ ہولڈر کی ملکیت سے نکل جاتی ہے، اور بینک اس رقم کا مالک بن جاتا ہے، اب بینک اگر اس رقم کو سودی معاملات میں استعمال کرے تووہ اس کا اپنا فعل ہے، اس لیے اکاؤنٹ ہولڈر کو گناہ نہیں ملے گا۔ تاہم احتیاط اس میں ہے کہ جہاں غیر سودی بینک موجود ہو وہاں روایتی سودی بنک میں اکاؤنٹ نہ کھولا جائے۔
إذا اجتمع المباشر والمتسبب يضاف الحكم إلى المباشر. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة:801، ج:2، ص:324، مكتبة:المكتبة العربية)
الضرورات تبيح المحظورات. الضرورة هي العذر الذي يجوز بسببه إجراء الشيء الممنوع. (درر الحکام فی شرح المجلة الأحكام، المادة:21، ج:1، ص:31)
الثاني:فتح الحساب الجاري معها... وقد أفتى العلماء المعاصرون بجواز ذلك عند الحاجة، لكون هذا القرض لا يجر نفعاً.وقد يُستشكل بأنه وإن لم يكن قرضاً ربوياً، ففيه إعانة للبنك في المعاملات الربوية، لأن من المعلوم أن البنك الربوي لا يُمسك هذه الودائع جامدة، وإنما يستثمرها في القروض الربوية، فيصير المودع معيناً للبنك في ممارساته الربوية.
ولكننا قدمنا مسئلة الإعانة على المعصية بتفصيل في أحكام المتعاقدين تحت عنوان "إن كان أحد العاقدين يقصد بالعقد ارتكاب معصية" ولو نظرنا إلى الودائع المصرفية على أساس المبادئ التي قررناها هناك، وجدنا أن إيداع رجل أمواله في الحساب الجاري ليس سبباً محركاً أو داعياً للمعاملات الربوية، بحيث لو لم يودع هذا الرجل ماله، لم يقع البنك في معصية، فدخل في القسم الثاني، ولا يقصد المودع في عامة الأحوال أن يعين البنك في ممارساته الربوية، وإنما يقصد به حفظ ماله...ولا شك أن كثيراً من المعاملات المشروعة اليوم أصبحت مرتبطة بالبنوك، ويحتاج الإنسان لإنجازها أن يكون له حساب مفتوح في إحدى البنوك، فالحاجة ظاهرة مشاهدة، وترتفع مثل هذه الكراهة التنزيهية بمثل هذه الحاجة إن شاء الله تعالى.غير أن هذه الرخصة إنما يجوز العمل بها إن لم يوجد مصرف غير ربوي. فإن وجد بشكل مقبول شرعاً، فلا ينبغى العمل بهذه الرخصة. (فقه البيوع، ج:2، ص:1061، مكتبة:مكتبةمعارف القرآن)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں