بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

چپس کے پیکٹ میں انعام رکھنا


سوال

چپس کمپنی والے دس روپے کے پاپڑ میں انعامات رکھتے ہیں، جس میں 10 روپے سے لے کر 1000 روپے تک نقد انعامات یا کھلونے شامل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ کھلونے ٹوکن نکلنے کی صورت میں ملتے ہیں۔ کیا کمپنی کا اس طرح انعامات تقسیم کرنا اور گاہک کا اس طرح اشیاء خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مبیع کی مقدار میں اضافہ یا اس کی قیمت میں کمی کرنا یا مبیع میں نقد انعام یا کھلونا وغیرہ رکھنا جائز ہے۔ بشرط کہ مبیع کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ مقرر نہ کی جائے نیز اس انعامی اسکیم کو ناقص مصنوعات کی مارکیٹنگ کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق چپس کمپنی کا اپنے مصنوعات کی طرف گاہک کو راغب کرنے کے لیے پاپڑ کے پیکٹوں میں نقد انعامات یا کھلونے رکھنا اس شرط پر جائز ہے کہ پاپڑ کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے زیادہ مقرر نہ کی جائے، اور اس کا معیار ناقص نہ ہو۔

 

قال: ويجوز للمشتري أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع. (الهداية شرح البداية المبتدي، كتاب البيوع، باب المرابحة و التولية، ج:5، ص:146، مكتبة البشرى كراتشي)

وجواز أخذها مشروط بأن لايكون البائع زاد في ثمن البضاعة من أجل هذه الجوائز وإلا صار نوعا من القمار... وكذلك إن كان الثمن ثمن المثل، فإنه يشترط أن يكون المشتري يقصد شراء البضاعة حقيقة، ولا يشتريها لمجرد احتمال الحصول علی الجائزة، وإلا ففيه شبهة القمار. (فقه البيوع، الجوائز علی المبیعات، ج:2، ص:811)


فتویٰ نمبر : 6805/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں