بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/09/2026

دارالافتاء

 

صلح کے دوران بھیڑ یا بکری ذبح کرنا


سوال

ہمارے علاقے اور قوم میں یہ رواج ہے کہ جب دو افراد کے درمیان کسی معاملے پر جھگڑا یا تنازع پیدا ہو جائے تو منصفین حضرات زیادتی کرنے والے فریق سے کہتے ہیں کہ وہ ایک یا دو بھیڑیں یا بکریاں لے آئے۔ اس کے بعد منصفین ان جانوروں کو ساتھ لے کر جس کے ساتھ زیاتی ہوئی ہو اس فریق کے گھر جاتے ہیں۔ ان کی طرف سے جانور لانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ یہ منصفین اپنی طرف سے زیادتی کرنے والے فرق پر لازم کرتے ہیں اور اس کو جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو اس کے گھر میں ذبح کرتے ہیں اور پھر سارے لوگ کھاتے ہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے فریق کا بکری یا بھیڑ ذبح کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر ایسی بکری یا بھیڑ ذبح کی جائے تو اس کا گوشت کھانا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

 

جواب

بعض علاقوں میں دو فریقین کے درمیان صلح کراتے وقت جرگے کے افراد زیادتی کرنے والے فریق پر جرمانہ عائد کرتے ہیں اور اسے پابند کرتے ہیں کہ وہ مظلوم کے گھر بکری یا بھیڑ ذبح  کرے۔ یہ تعزیر بالمال (مالی جرمانہ) کی ایک صورت ہے، جس کے جواز کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اہلِ علم نے اسے جائز قرار دیا ہے، جبکہ اکثر فقہاء اس کے عدمِ جواز کے قائل ہیں۔

موجودہ دور میں جرائم کی روک تھام، ظالم کو ظلم سے باز رکھنے اور انتظامی مصلحت کے پیشِ نظر معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے مالی جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش ہے۔ البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ جرمانے کی رقم یا مال وصول کرنے والے افراد اسے اپنے ذاتی استعمال میں نہ لائیں، بلکہ مستحق غرباء پر صدقہ کر دیں، یا کسی جائز رفاہی اور مفادِ عامہ کے کام میں صرف کریں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق سائل کے علاقہ میں ظلم کرنے والے پر جو جرمانہ بکری یا بھیڑ ذبح کرنے کی شکل میں لگایا جاتا ہے، اس کی گنجائش ہے۔ تاہم مجرم کی استطاعت کو مدِ نظر رکھ کر جرمانہ لگایا جائے۔ نیز جب اس جانور کو صرف اللہ تعالی کے نام پر ذبح کیا جائے تو اس کا گوشت حلال ہوگا۔

 

لو ضافه أمير فذبح عند قدومه، فإن قصد التعظيم لا تحل وإن أضافه بها وإن قصد الإكرام تحل وإن أطعمه غيرها. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الذبائح، ج:6، ص:310)

يجوز التعزير بأخذ المال وهو مذهب أبي يوسف وبه قال مالك، ومن قال: إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلا واستدلالا وليس بسهل دعوى نسخها.وفعل الخلفاء الراشدين وأكابر الصحابة لها بعد موته صلى الله عليه وسلم مبطل لدعوى نسخها، والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولا إجماع يصحح دعواهم. (معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام، ص:195)


فتویٰ نمبر : 6807/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں