بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت


سوال

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت 26 ذوالحجہ کو ہوئی یا یکم محرم الحرام کو؟ براہِ کرم مستند دلائل کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ ان دونوں میں سے صحیح تاریخ کونسی ہے؟

 

جواب

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تاریخِ شہادت کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک قول کے مطابق26 ذوالحجہ 23ھ کو نمازِ فجر میں آپ رضی اللہ عنہ پر ابو لؤلؤ مجوسی نے حملہ کیا، آپ تین دن زخمی حالت میں رہے، پھر 29 ذوالحجہ کو وصال فرمایا اور یکم محرم 24ھ کو تدفین ہوئی۔ یہ تفصیل متعدد کتبِ تاریخ میں مذکور ہے۔البتہ تاریخ طبری میں یکم محرم کا قول بھی منقول ہے۔ اس لیے اس مسئلے میں قطعی اور حتمی طور پر کسی ایک تاریخ کو متعین نہیں کیا جاسکتا۔

 

فاتفق له ان ضربه ابو لؤلؤة فيروز المجوسي الاصل الرومي الدار وهو قائم يصلي في المحراب صلاة الصبح من يوم الاربعاء لاربع بقين من ذي الحجة من هذه السنة بخنجر ذات طرفين...ومات رضى الله عنه بعد ثلاث ودفن يوم الاحد مستهل المحرم من سنة اربع وعشرين بالحجرة النبوية الى جانب الصديق عن اذن ام المؤمنين عائشة رضى الله عنها في ذلك وفي ذلك اليوم حكم امير المؤمنين عثمان بن عفان رضى الله عنه .( البداية والنهاية  للحافظ ابن کثیر الدمشقی، خبر سلمة بن قيس الأشجعى، ج:10، ص:190،189)

قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَقَدْ قِيلَ إِنَّ وَفَاتَهُ كَانَتْ فِي غُرَّةِ الْمُحَرَّمِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ.( تاريخ الطبري، ج:4، ص:193)


فتویٰ نمبر : 6814/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں