بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ میں شمولیت اختیار کرنا


سوال

ایک کمپنی ہے جو لوگوں کو بتاتی ہے کہ ہماری کمپنی کو نہ زیادہ تعلیم کی ضرورت ہے اور نہ زیادہ تجربے کی۔ فرسٹ ٹائم بھی کام کر سکتے ہیں اور سیکنڈ ٹائم بھی۔ 4 گھنٹے کا کام ہوگا تو 25 سے 40 ہزار تنخواہ ملے گی۔ جب آپ CV جمع کرنے کے لیے جاتے ہیں تو وہاں آپ سے 2000 روپے لیتے ہیں کہ اگر آپ سلیکٹ ہو جائیں تو ہمارے ساتھ 4 دن ٹریننگ لے کر کام شروع کرو۔ سلیکٹ ہونے پر پیسے واپس نہیں ہوں گے، اگر سلیکٹ نہیں ہوئے تو یہ 2000 روپے اس کو واپس مل جائیں گے (لیکن تقریباً ہر ایک سلیکٹ ہوتا ہے)۔ ٹریننگ میں سلیکٹ شدہ افراد کو کمپنی کی ترتیب اور Food Supplement کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ٹریننگ کے آخری دن بتایا جاتا ہے کہ آپ کے صرف تین کام ہیں:

PURCHASE: یعنی 200 point جو 50,000 کا ہوتا ہے وہ اپنے لیے شاپنگ کریں گے۔ USE: اس کو استعمال کرکے آپ کو کمپنی کے پراڈکٹس کا پتہ چلے گا، لہٰذا آپ اس دوائی کو اپنے لیے بیچ بھی سکتے ہیں اور استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ SHARE: لوگوں کے ساتھ Share کرو اور اپنے ساتھ 4 افراد کو شریک کرو (جب آپ چار افراد کو لائیں گے وہ بھی یہی ترتیب کریں گے، یعنی شروع میں 2000 میں رجسٹریشن کریں گے، پھر 50,000 روپے کی شاپنگ اور وہ بھی پھر 4 افراد کو کمپنی میں شامل کرکے کمیشن لیں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا)۔ پھر آخر میں پتہ چل جاتا ہے کہ یہاں پر تنخواہ نہیں آپ کی کارکردگی کی بنیاد پر پیسے ملیں گے۔ مطلب آپ ایک لڑکے کو لے آئے وہ 2000 فیس جمع کرے تو اس میں آپ کو اپنا حصہ 500 ملے گا۔ اگر 50,000 روپے کی شاپنگ کرے تو اس میں بھی آپ کا اپنا فیصد ہوتا ہے اور اگر آپ مریض لائیں گے تو اس میں بھی آپ کا اپنا فیصد ہوتا ہے۔ کمپنی ایک مریض کو ڈاکٹر کے 1500 روپے فیس کے علاوہ تقریباً 10,000 ہزار سے لے کر 18,000 تک دوائی دیتی ہے۔ ایک Food Supplement کی قیمت 6000 ہزار تک ہوتی ہے، 18,000 میں مریض کو 21 دن کے لیے تین ڈبے ملتے ہیں، مریض پھر چیک اپ کے لیے آتا جاتا ہے اور دوائی ختم ہونے پر اور دوائی لیتا ہے۔ یہاں پر ایک بات یہ ہے کہ اس کمپنی میں، میں جس کے نیچے کام کرتا ہوں تو وہ بھی کسی اور کے نیچے کام کرتا ہے۔ 

جواب

واضح رہے کہ کچھ کمپنیاں اس طرح کام کرتی ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کو روایتی مارکیٹنگ کے طریقہ کار کے بجائے افراد کے ایک باہمی نیٹ ورک کے ذریعے فروخت کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں شامل ہونے کے لیے ابتدا میں رجسٹریشن فیس ادا کرنی پڑتی ہے اور پھر اس ممبر پر ایک مخصوص مقدار میں کمپنی کے پراڈکٹس خریدنا لازم ہوتا ہے اور پھر آگے نئے ممبرز کو کمپنی میں رجسٹرڈ کرانا ہوتا ہے، اور پھر ان کی رجسٹریشن فیس اور پراڈکٹس کی خریداری میں مخصوص کمیشن اس کو ملتا ہے۔ یوں یہ نیٹ ورک بڑھتا رہتا ہے اور ممبران کے کمیشن میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح مصنوعات کی تشہیر کو نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کہا جاتا ہے۔

نیٹ ورک مارکیٹنگ یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کی بنیاد پر کام کرنے والی کمپنیوں کے ممبر بننے کے لیے اولاً مخصوص رقم ادا کرکے رجسٹریشن کرنی پڑتی ہے پھر اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز لازماً خریدنی پڑتی ہے۔ پھر اس کے بعد اگر مزید ممبر بنائے جائیں تو کمیشن ملتی ہے، شرعی لحاظ سے یہ معاملہ درست نہیں، کیونکہ اس میں ایک معاملے کو دوسرے کے ساتھ مشروط کیا جاتا ہے، یعنی کمپنی کے لیے ممبر بنانے کے معاوضے (کمیشن) کو کمپنی سے خریداری کرنے پر مشروط کیا جاتا ہے جو شرعاً جائز نہیں۔اسی طرح شرعی اعتبار سے دوسری خامی یہ ہے کہ ایک ممبر کے تحت جتنے آدمی رجسٹر ہوتے ہیں اور خریداری کرتے ہیں ان سب کی خریداری اور منافع میں اوپر کے ممبران کو کمیشن ملتا ہے، چاہے وہ بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ، جبکہ بالواسطہ افراد کی خریداری پر کمیشن لینا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اس میں براہ راست کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ تیسرا یہ کہ ممبران رجسٹریشن کرکے مہنگے داموں کمپنی کی مصنوعات خریدتے ہیں خواہ ان کو مصنوعات کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ وہ یہ رقم اس لالچ میں خرچ کرتے ہیں کہ آگے ان کو منافع حاصل ہوں گے حالانکہ وہ منافع غیر یقینی ہوتے ہیں، اگر ممبر بنائے تو مل جائیں گے ورنہ نہیں۔ گویا غیر یقینی منافع کے چکر میں بھاری رقم بلا ضرورت خرچ کی جاتی ہے اور یہ قمار (جوا) کی ایک شکل ہے جس سے واضح الفاظ میں قرآن مجید میں منع کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ان کمپنیوں کے اہداف و مقاصد اور طریقہ کار پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اصل مقصد کمیشن کی لالچ کو ایک جھانسہ بنا کر اپنا نیٹ ورک پھیلانا اور لوگوں پر اپنی مصنوعات مہنگے داموں فروخت کرکے منافع کمانا ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ ممبر شپ اختیار کرکے کمیشن لینا شرعاً جائز نہیں۔

قال اللہ تعالی :يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة:90(

عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة.(مسند أحمد،ج:6،ص:324)

فلو جوزناہ لکان استحقاقا بغیر عمل ولم یرد بہ الشرع.(الھدایۃ، کتاب المساقاۃ، ج :4 ص: 430)

(قوله ولا بيع بشرط) شروع في الفساد الواقع في العقد بسبب الشرط لنهيه صلى الله عليه وسلم عن بيع وشرط. (رد المحتار مع الدر المختار ، مطلب في البيع بشرط فاسد،ج:5 ص:84)

لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، باب الإستبراء وغيره، فصل في البيع ، ج:9 ص:577)

الأمور بمقاصدها.يعني: أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر.( مجلة الأحكام العدلية، ص16)


فتویٰ نمبر : 4229/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں