بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/08/2026

دارالافتاء

 

تعمیراتی کمپنی کے ٹھیکہ دار پر زکوۃ


سوال

ہماری ایک تعمیراتی (Construction) کمپنی ہے۔ ہم زیادہ تر حکومتی پروجیکٹس ٹھیکہ پر لیتے ہیں جس میں موٹرویز، پلوں کی تعمیر، ٹنل وغیرہ کی تعمیر کرتے ہیں۔ جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جب ہم کوئی پروجیکٹ لیتے ہیں تو پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے ہمیں گورنمنٹ کی طرف سے ایک متعینہ دورانیہ دیا جاتا ہے۔ مثلاً تین سال میں ہمیں وہ پروجیکٹ مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اس پروجیکٹ کی تکمیل تک ہم سے گورنمنٹ ایک بڑی رقم سیکورٹی کی مد میں جمع کرواتی ہے۔ ہم ان تین سالوں میں اس پروجیکٹ کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس دوران حکومت ہمیں وقتاً فوقتاً پیمنٹ ریلیز کرتی ہے۔ جو ہم اس پروجیکٹ پر لگاتے ہیں، کبھی اپنی رقم بھی اس پر لگاتے ہیں اور حکومت کی طرف سے دی گئی پیمنٹ میں سے کچھ رقم اپنے دیگر پروجیکٹس یا اخراجات میں بھی لگاتے ہیں۔ اب مثلاً ایک سال میں ہم نے اس پروجیکٹ کا تیس فیصد (%30) مکمل کر لیا، اور اس دوران ہمیں حکومت سے مثلاً تیس کروڑ روپے ریلیز ہوئے، جس میں سے ہم نے پچیس کروڑ روپے اس کام پر لگائے، بظاہر پانچ کروڑ روپے اس ایک سال میں ہمیں منافع ہوا۔لیکن یہ منافع حتمی اور یقینی نہیں ہے، اس لئے کہ اگلے دو سالوں میں اس باقی کام پر مزید کتنی رقم لگتی ہے، اور وہ باقی ماندہ پیمنٹس سے کم ہے یا زیادہ۔ نیز تکمیل کے ایک سال بعد اس پروجیکٹ کی مینٹیننس (Maintenance) بھی ہماری کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس پر ہمارے کتنے اخراجات ہونگے، وہ بھی نامعلوم ہیں۔الغرض ہمیں نفع و نقصان کا حتمی اور یقینی علم اُس وقت ہوتا ہے، جبکہ پروجیکٹ کے مکمل ہو جانے کے ایک سال بعد اُس کے مینٹیننس کا دورانیہ مکمل ہو جائے اور ہمیں اپنی جمع کرائی ہوئی سیکورٹی کی رقم واپس مل جائے (کیونکہ کبھی کبھار بعض وجوہات کی بناء پر ہم سے جمع کرائی گئی سیکورٹی میں کٹوتی کر دی جاتی ہے) اس کے بعد ہمیں مکمل علم ہوتا ہے کہ ہمارا اس پروجیکٹ پر اتنا خرچہ ہوا، اور ہمیں گورنمنٹ سے اتنی رقم ملی ہے۔ اور جمع تفریق کے بعد ہمارا نفع یا نقصان معلوم ہو جاتا ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا ہمیں ہر سال اس پروجیکٹ سے حاصل شدہ آمدنی پر زکوٰۃ ادا کرنی ہے (جو کہ اگلے سالوں میں یقیناً کم یا زیادہ ہو سکتی ہے) یا پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد اور نفع کے یقینی علم کے بعد ہم زکوٰۃ ادا کریں گے؟

جواب

واضح رہے کہ عقد استصناع میں صانع کو جو عوض ملتا ہے، وہ اس کا مالک ہوتا ہے، چاہے اس کو یکمشت ملے یا وقتا فوقتا، نیز یہ کہ جو شخص نصاب کے بقدر مال کا مالک ہو، تو سال پورا ہونے کے وقت اس کی ملکیت میں جتنا مال ہو اس پورے مال کی زکوۃ اس کے ذمہ واجب ہوتی ہے، تاہم ادائیگی صرف اس کی لازم ہوگی، جس کو اس نےوصول  کیا ہو، اور جوقرض اس کے ذمےلازم ہو، اس کو نصاب سے منہا کرکے بقیہ مال کی زکوۃ ادا کرے گا۔

  صورت مسئولہ کے مطابق سائل جب کسی پروجیکٹ کا ٹھیکہ لیتا ہے، تو جس قدر کام  پورا کرکےمعاہدہ کے مطابق اس کی رقم کا مستحق بن جائے، وہ اس کی ملکیت شمار ہوگی، چاہے ابھی سرکار سے وہ رقم ملی ہو یا نہ ملی ہو، اس پوری رقم کو اپنے دوسرے اموال زکوۃ کے ساتھ ملا کر زکوۃ کا حساب لگائے گا، البتہ جو رقم ابھی وصول نہ ہوئی ہو، اس کے بقدر زکوۃ کی ادائیگی کو اس رقم کی وصولی تک مؤخر کر سکتا ہے اور  جو رقم بطورسیکیورٹی رکھوائی ہو، وہ بھی اس کی ملکیت ہے، لہذا  اس کی زکوۃ کی ادائیگی بھی لازم ہوگی،البتہ جو قرضہ اس کے ذمےلازم  ہواس کو نصاب سے منہا  کرے گا۔

 

وأما حكم الاستصناع: فهو ثبوت الملك للمستصنع في العين المبيعة في الذمة، وثبوت الملك للصانع في الثمن. (بدائع الصنائع، كتاب الاستصناع، ج:6، ص:86)

ويخالفه ما في المعراج في فصل زكاة العروض أن الزكاة تجب في النقد كيفما أمسكه للنماء أو للنفقة، وكذا في البدائع في بحث النماء التقديري.قلت: وأقره في النهر والشرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها. (رد المحتار علی الدرالمختار،  کتاب الزکوۃ، ج:3، ص:179)

أما الشرائط التي ترجع إلى المال فمنها: الملك فلا تجب الزكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك وهذا؛ لأن في الزكاة تمليكا والتمليك في غير الملك لا يتصور. (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، ج:2، ص:389)

ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺄﺟﻴﻞ ﺛﻤﻦ ﺍﻻﺳﺘﺼﻨﺎﻉ، ﺃﻭ ﺗﻘﺴﻴﻄﻪ ﺇﻟﻰ ﺃﻗﺴﺎﻁ ﻣﻌﻠﻮﻣ ﺔﻵﺟﺎﻝ ﻣﺤﺪﺩﺓ، ﺃﻭ ﺗﻌﺠﻴﻞ ﺩﻓﻌﺔ ﻣﻘﺪﻣﺔ ﻭﺗﺴﺪﻳﺪ ﺑﺎﻗﻲ ﺍﻟﺜﻤﻦ ﻵﺟﺎﻝ ﻣﺤﺪﺩﺓ، ﺃﻭ ﺗﻌﺠﻴﻞ ﺩﻓﻌﺔ ﻣﻘﺪﻣﺔ ﻭﺗﺴﺪﻳﺪ ﺑﺎﻗﻲ ﺍﻟﺜﻤﻦ ﻋﻠﻰ ﺩﻓﻌﺎﺕ ﻣﺘﻮﺍﻓﻘﺔ ﻣﻊ ﻣﻮﺍﻋﻴﺪ ﺍﻟﺘﺴﻠﻴﻢ ﻷﺟﺰﺍﺀ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺼﻨﻮﻉ. ﻭﻳﺠﻮﺯ ﺭﺑﻂ ﺍﻷﻗﺴﺎﻁ ﺑﻤﺮﺍﺣﻞ ﺍﻹﻧﺠﺎﺯ ﺇﺫﺍ ﻛﺎﻧﺖ ﺗﻠﻚ ﺍﻟﻤﺮﺍﺣﻞ ﻣﻨﻀﺒﻄﺔ ﻓﻲ ﺍﻟﻌﺮﻑ. (المعيار الشرعي، رقم:11)


فتویٰ نمبر : 11072/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں