بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

حدیث کی تخریج


سوال

میں نے ایک جگہ روایت سنی کہ آپﷺ تعمیر کعبہ کے وقت برہنہ تھے، کیا اس روایت کی احادیث کی کتابوں میں کوئی اصل ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نبی کریمﷺ حیا اور پاکدامنی میں اعلی مثال تھے، آپﷺ بالغ ہونے کے بعد کبھی برہنہ نہ ہوئے، چنانچہ یہ بات درست نہیں کہ آپﷺ تعمیر کعبہ کے وقت برہنہ تھے، تاہم بخاری اور مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ تعمیر کعبہ کے وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے مشورہ پر آپﷺ نے ایک لمحے کے لئے تہبند کھول کر اپنے کندھے پر رکھ لیا تھا تاکہ کندھے پر پتھر رکھنے میں آسانی ہو، لیکن فوراً آپ بےہوش ہو کر گرپڑے، اس کے بعد پھر کبھی آپ کو برہنہ نہیں دیکھا گیا۔

 

حدثنا مطر بن الفضل قال حدثنا روح قال حدثنا زكرياء بن إسحق حدثنا عمرو بن دينار قال سمعت جابر بن عبد الله يحدث: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينقل معهم الحجارة للكعبة، وعليه إزاره، فقال له العباس عمه: يا ابن أخي، لو حللت إزارك، فجعلت على منكبيك دون الحجارة، قال: فحلَّه، فجعله على منكبيه، فسقط مغشيا عليه، فما رئي بعد ذلك عريانا صلى الله عليه وسلم .(الصحيح للبخاری، باب كراهية التعری فی الصلاة وغيرها، رقم الحديث:357، ج:1، ص:143)


فتویٰ نمبر : 6823/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں