بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مقالہ لکھنے پر معاوضہ لینا


سوال

ایک طالب علم  کو منتخب موضوع پر ریسرج حوالہ تھا اور اس کو میں نے کہا کہ میں آپ کامقالہ مکمل  لکھتا ہوں اور تم مجھے اس پر معاوضہ دو گے۔کیا مقالہ لکھنے پر معاوضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ تعلیمی خدمات فراہم کرنے پر اجرت لینا فی نفسہ جائز ہےاور  شرعی طور پر اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی جانب سے طالبِ علم کو دیا گیا وہ کام جس  سے اس طالبِ  علم کی صلاحیت کا امتحان مقصود ہو، اس کی کارکردگی کا تعین ہو  اور اس کی بنیاد پر مستقبل میں اس طالب علم کو ڈگری جاری کی جاتی ہو ، ایسا تعلیمی کام طالبِ علم  پر بذاتِ خود سرانجام دینا لازم ہے۔

لہذا صورت مسئولہ  میں سائل کا طالب علم کے لیےمکمل  مقالہ لکھوانے کے عوض معاوضہ لینا تعاون علی المعصیۃ  کے زمرے میں شمار ہونے کی وجہ سےجائز نہیں ہے،البتہ  جزوی معاونت،حوالہ جات کی فراہمی یا کمپوزنگ و سیٹنگ میں تعاون کرنے کامعاوضہ لینا اس حکم میں  داخل نہیں ہے۔

 

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا ».(صحيح مسلم،كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله عليه تعالى وسلم: من غشنا فليس منا،ج:1،ص:69،ح:101)

وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح.(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:189)


فتویٰ نمبر : 6818/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں