بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

امتحانی فیس کے لیےطالبات سے پیسے وصول کرنا


سوال

ہمارا بنات کا ایک مدرسہ ہے، جس میں امتحانات کے موقع پر طالبات سے امتحانی پرچوں کی فوٹو کاپی یا پرنٹنگ کے اخراجات کے لیے فی طالبہ 100 روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ عموماً پرچوں کی پرنٹنگ پر تقریباً 60 روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ 40 روپے اضافی بچ جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ طالبات سے پرچوں کی پرنٹنگ کے لیے 100 روپے وصول کرنا، جبکہ اصل خرچ تقریباً 60 روپے ہو، اور بچ جانے والی 40 روپے کی رقم کسی استاد کو اس کی خدمات کے عوض دینا، شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

اگر مدرسے کی انتظامیہ طالبات سے صرف امتحانی پرچوں کی فوٹو کاپی یا پرنٹنگ کے اخراجات کے عنوان سے فی طالبہ 100 روپے وصول کرے، جبکہ حقیقت میں پرچوں کی پرنٹنگ پر 60 روپے خرچ ہوتے ہوں ، تو باقی 40 روپے کسی استاد کو اس کی خدمات کے عوض دینا جائز نہیں،  بلکہ انہی طالبات کو لوٹانا  ضروری ہے یا پھر ان کی اجازت سے دوسرے مصرف میں خرچ  کیے جاسکتے ہیں ،البتہ اگر مدرسے کی انتظامیہ ابتدا ہی سے فی طالبہ100روپے بطور امتحانی اخراجات مقرر کرے، اور اس میں پرچوں کی پرنٹنگ، امتحانی انتظامات اور متعلقہ اساتذہ کے خدمات وغیرہ شامل ہوں تو پھر بقیہ رقم  کسی استاد کو اس کی اضافی امتحانی خدمت کے عوض کے طور پر دینا جائز ہے۔

 

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.(البحرالرائق، فصل فی التعزیر، ج:5، ص:68)

لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه.( مجلة الأحكام العدلية، المادة :96، ص:27)


فتویٰ نمبر : 4190/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں