بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

غیر محرم عورتوں سے پردہ کرنا


سوال

میں اپنے ایک شیخ سے بیعت ہوں۔ میرے شیخ نے مجھے ہدایت فرمائی ہے کہ میں اپنی قریبی رشتہ دار غیر محرم خواتین سے شرعی پردہ کروں، یعنی ان سے بلا ضرورت گفتگو نہ کروں، ان کے گھروں میں بلا ضرورت نہ جاؤں، انہیں نہ دیکھوں اور ان کے ساتھ ہدیہ وغیرہ کا لین دین بھی نہ کروں۔اب بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میرے شیخ کی طرف سے یہ پردے کا حکم شریعت میں ثابت نہیں، بلکہ بغیر کسی شرعی عذر کے اختیار کیا گیا ایک من گھڑت اور زائد پردہ ہے۔شرعی لحاظ سے میرے لیے کیا کرنا چاہیے؟

 

جواب

واضح رہے کہ جس طرح عورتوں کو غیر محرم مردوں سے شرعی پردے کا حکم ہے، اسی طرح مردوں کو بھی غیر محرم عورتوں سے غیر ضروری اختلاط و بے تکلفی سے بچنے کا حکم ہے۔ لہٰذا اگر کسی شیخ نے اپنے مرید کو غیر محرم رشتہ دار خواتین سے غیر ضروری میل جول، گفتگو اور آمدورفت سے اجتناب کی ہدایت کی ہوتو اسے فی نفسہ من گھڑت پردہ کہنا درست نہیں، بلکہ یہ شرعی حدود کی رعایت اور احتیاط کے دائرے میں ہے۔ البتہ یہ بات بھی واضح رہے کہ ہر غیر محرم رشتہ دار سے ہر قسم کی گفتگو، ملاقات یا ہدیہ کے لین دین کو مطلقاً ناجائز قرار دینا درست نہیں۔چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں شرعاً غیر محرم ہیں، اس لیے ان سے پردہ کرنا ضروری ہے۔ تاہم ضرورت کے وقت بقدرِ ضرورت گفتگو کرنا، کسی جائز ضرورت سے ان کے گھر جانا جائز ہے، بشرطیکہ شرعی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔البتہ بلا ضرورت ان کے ساتھ بے تکلفی، ہنسی مذاق، کثرت سے میل جول اور خلوت یا ایسی صورت میں ان کی طرف دیکھنا جس میں فتنے کا اندیشہ ہو، ان امور سے بہرحال اجتناب لازم ہے۔

 

قال الله تعالى:﴿قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّوا مِنۡ أَبۡصٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُوا فُرُوجَهُمۡۚ ذٰلِكَ أَزۡكىٰ لَهُمۡ﴾ [النور: 30]

وأما النظر إلى الأجنبيات فنقول: ‌يجوز ‌النظر ‌إلى ‌مواضع ‌الزينة الظاهرة منهن وذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية، كذا في الذخيرة. وإن غلب على ظنه أنه يشتهي فهو حرام، كذا في الينابيع. النظر إلى وجه الأجنبية إذا لم يكن عن شهوة ليس بحرام لكنه مكروه، كذا في السراجية. وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يجوز النظر إلى قدمها أيضا ۔(الفتاوی الهندية، كتاب الكراهية،الباب الثامن في ما يحل للرجل النظر۔۔۔ج:5،ص:328)


فتویٰ نمبر : 6798/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں