بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

روزمرہ اشیااورپالتو جانوروں کےسامان کی آن لائن فروخت


سوال

کیا روزمرہ زندگی کےاستعمال کی جائز اشیا(جیسے الیکٹرانکس، کچن، واش روم کاسامان، موبائل اسٹینڈ وغیرہ)اورپالتوجانوروں (خصوصاً کتوں اوربلیوں)کےکھانےپینےکےبرتنوں یا دیگرسامان کی تصاویر لگاکرآرڈرحاصل کرنااوران پربطورِوکیل کمیشن لینا شرعاًجائزہے؟ کیا شریعت میں کتوں یا دیگرجانوروں کےاستعمال کی اشیا کی تجارت یا ان کی وکالت کےحوالےسےکوئی خاص ممانعت ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جن اشیا کی خریدوفروخت اپنی ذات کےاعتبارسےجائزہو، ان کی تجارت میں بطورِوکیل کام کرنا اوراس پرطےشدہ اجرت لینا بھی شرعاًجائزہے۔

صورتِ مسئولہ میں روزمرہ استعمال کی اشیا (جیسے الیکٹرانکس، کچن، واش روم کا سامان اورموبائل اسٹینڈ وغیرہ) کی تصاویراپنےاسٹورپرلگاکرکسٹمرزسےآرڈرحاصل کرنا اوران پرطےشدہ کمیشن وصول کرناشرعاًجائزہے۔نیزجانوروں کےاستعمال کی اشیاکی تجارت کی کوئی ممانعت واردنہیں ہوئی ہے، لہذاجانوروں کےاستعمال کی اشیا کی تجارت کرنا، ان کےآرڈرلینا اوران پرطےشدہ کمیشن وصول کرنا بھی شرعاًجائز ہے۔

 

واما اقتناؤه للصيد وحراسة الماشية والبيوت والزرع فيجوز بالاجماع. ( رد المحتارعلی الدرالمختار، كتاب البيوع، باب المتفرقات، ج: 5، ص: 227)

واما بيع كل ذي ناب من السباع سوى الخنزير كالكلب والفهد والاسد والنمر والذئب والهر ونحوها فجائز عند اصحابنا ولنا ان الكلب مال فكان محلا للبيع. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب البيوع، ج: 5، ص: 142)

وكله بجميع ما سمى ووصف فيه وكالة صحيحة جائزة ليبيع ويشتري هذا الوكيل جميع اموال هذا الموكل وجميع املاكه التي يجوز بيعها من جميع اصناف ما راى بيعه من جميع الاموال والاملاك. (الفتاوى الھندية، كتاب الوكالة، الباب الثالث عشر في الوكالة بالبيع والشراء، ج: 6، ص: 322)

ويجوز بيع الھرة لانها تصطاد الفارة والهوام المؤذية فهي منتفع بها. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب البيوع، باب المتفرقات، ج: 6، ص: 187)


فتویٰ نمبر : 4210/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں