بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/08/2026

دارالافتاء

 

صحت کارڈ سے معاوضہ لینا


سوال

میں ایک ڈینٹل ڈاکٹر ہوں۔ صحت کارڈ کے ذریعے سرکاری ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتال میں لوگوں کا علاج معالجہ کرتا ہوں۔ سرکاری ہسپتال میں تنخواہ کے علاوہ صحت کارڈ سے بھی فیس ملتی ہے، جبکہ پرائیویٹ میں میری تنخواہ صحت کارڈ سےہوتی ہے۔ جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ صحت کارڈ کو سرمایہ انشورنس کمپنیاں دیتی ہے، اور ان کمپنیوں کی بنیاد سود اور جوئےپر ہے۔ ایسی صورت میں میری لئے کیا حکم ہے؟ کیا صحت کارڈ سے میں معاوضہ لے سکتا ہوں۔

جواب

واضح رہےکہ علاج معالجہ انسان کی بنیادی ضروریات میں داخل ہے۔موجودہ دور میں اگر ایک طرف بیماریوں کی کثرت ہوگئی ہے تو دوسری طرف علاج اتنا مہنگا ہو چکا ہے، جو بعض اوقات صرف غریب ہی نہیں متوسط طبقہ کے لوگوں کے لیے بھی نا قابل برداشت ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں دنیا بھر میں انشورنس کمپنیوں نے ہیلتھ انشورنس کی مختلف سکیمیں متعارف کی ہیں ، جن میں وہ ماہانہ یا سالانہ بنیاد پر”پریمیم“ وصول کر کے بیمار ہونے کی صورت میں علاج کرواتی ہیں۔ چونکہ انشورنس کی یہ پالیسیاں عموماً قمار، ربا اورغرر جیسے نا جائز امور پرمشتمل ہوتی ہیں اس لیے کسی مسلمان کے لیے دیدہ دانستہ ذاتی طور پر ان کا حصہ دار بننا جائز نہیں ۔

تاہم اگرکوئی ڈاکٹر انشورنس کمپنی کےساتھ معاہدے کا براہِ راست فریق نہ ہو، بلکہ وہ سرکاری یا نجی ہسپتال میں اپنی طبی خدمات انجام دیتاہواور اس کے عوض ہسپتال سے تنخواہ یا معاوضہ وصول کرتاہو،اور صحت کارڈ کے تحت کسی مریض کا علاج کرنے کے بعد صحت کارڈ کا متعلقہ ادارہ علاج کی رقم ہسپتال کو ادا کرتاہو، اور ہسپتال اس رقم سے ڈاکٹر کو اس کےطبی خدمات کے عوض بطور تنخواہ معاوضہ ادا کرتا ہے، تو ڈاکٹر کے لیےاس معاوضہ کا لینا جائز ہے۔ نیزانشورنس کمپنی اور حکومت یا متعلقہ ادارے کے درمیان جو معاملہ ہےاس کےگناہ کا اثرمتعلقہ فریقوں تک ہی محدود ہے۔ڈاکٹر اگر اس معاہدے کا براہِ راست فریق نہ ہوتو اس پرحرمت کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

 

كان العلامة بخوارزم لا يأكل من طعامهم ويأخذ جوائزهم، فقيل له فيه، فقال: تقديم الطعام يكون إباحة والمباح له يتلفه على ملك المبيح فيكون آكلا طعام الظالم والجائزة تمليك فيتصرف في ملك نفسه. اهـ.(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج:3، ص:219)

القاعدة التاسعة عشرة: إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر فلا ضمان على حافر البئر تعديا بما أتلف بإلقاء غيره ولا يضمن من دل سارقا على مال إنسان فسرقه.(الأشباه والنظائر لابن نجيم،ص:135)


فتویٰ نمبر : 4189/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں