بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قبرستان میں کھیلنے کا حکم


سوال

 ہمارے علاقے میں وقف زمین ہے جو قبرستان کے لئے وقف ہے اس میں کھیلنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ جو جگہ قبرستان کے لیے وقف کر دی جائے، اسے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے جس کے لیے واقف نے اسے وقف کیا ہے، یعنی میتوں کو اس میں دفن کرنا۔ لہٰذا وقف شدہ قبرستان میں دفنانے کے علاوہ کسی اور تصرف کی اجازت نہیں، خاص کر ایسا کام کرنا جس سے قبروں کی حرمت پامال ہوتی ہو۔

لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق جو جگہ قبرستان کے لیے وقف ہو چکی ہو، اسے لہو و لعب، کھیل تماشے یا دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔

 

(وعن عمرو بن حزم) بفتح الحاء وسكون الزاي: (قال: رآني النبي صلى الله عليه وسلم ‌متكئا ‌على ‌قبر فقال: لا تؤذ صاحب هذا القبر) أي: لا تهنه۔( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الجنائز، باب دفن الميت، ج:3 ص:1230 )

فإذا ‌تم ‌ولزم لايملك ولا يعار ولا يرهن ۔( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الوقف، ص:370 )

ولا يجوز ‌تغيير ‌الوقف ‌عن ‌هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف۔ ( الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الرابع عشر في المتفرقات، ج:2، ص:490 )


فتویٰ نمبر : 6816/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں