بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/08/2026

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی میں تاخیر پر اضافی رقم کی شرط لگانا


سوال

میں نے اپنے ایک دوست سے 30 ہزار روپے قرض لیے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ تین ماہ بعد یہ رقم واپس کر دوں گا۔ تین ماہ گزرنے کے بعد بھی میرے پاس رقم موجود نہیں تھی، اس لیے میں نے اپنے دوست سے مزید ایک ماہ کی مہلت مانگی اور کہا کہ ایک ماہ بعد قرض کی پوری رقم ادا کر دوں گا۔اب میرے دوست نے شرط رکھی ہے کہ اگر وہ مجھے ایک ماہ کی مزید مہلت دے گا تو مجھے 30 ہزار روپے کے علاوہ 5 ہزار روپے اضافی بھی ادا کرنا ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا قرض کی مدت بڑھانے کے بدلے 5 ہزار روپے اضافی رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے  یا نہیں ؟

جواب

قرض کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جتنی مقدار میں قرض لیا جائے، اتنی ہی مقدار میں قرض دار پر   واپس کرنا لازم ہے۔ اگر قرض خواہ قرض پر کسی اضافی رقم کی شرط عائد کرے، تو یہ اضافہ سود کے حکم میں ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں قرض کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کے بدلے پانچ ہزار روپے اضافی ادا کرنے کی شرط لگانا سود ہے۔ اس  لئے اس سودی  شرط سے بچنا لازم ہے۔

 

أمالذي ‌يرجع ‌إلى ‌نفس ‌القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ص:395)


فتویٰ نمبر : 4205/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں