بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/08/2026

دارالافتاء

 

نفلی طواف شروع کرنے کے بعد ادھورا چھوڑنا


سوال

اگر کسی شخص نے نفلی طواف شروع کیا اور چار چکر مکمل کرنے کے بعد نماز کھڑی ہوگئی، جس کی وجہ سے اسے طواف ادھورا چھوڑنا پڑا، تو کیا نفلی طواف شروع کرنے کے بعد اسے مکمل کرنا واجب ہوجاتا ہے؟ یا نماز کی وجہ سے چار چکروں کے بعد طواف چھوڑ دینے کی صورت میں اس پر کوئی حکمِ وجوب عائد نہیں ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ نفلی طواف بھی دیگر نفلی عبادات کی طرح ہے۔ لہٰذا جب کوئی شخص نفلی طواف شروع کرلے تواسے ادھورا چھوڑنا جائز نہیں، بلکہ شروع کرنے کے بعد اسے مکمل کرنا شرعاً لازم ہوجاتا ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے نفلی طواف شروع کیا اور دورانِ طواف نماز کھڑی ہوگئی، تو نماز ادا کرنے کے بعد باقی طواف مکمل کرنا شرعاً لازم ہوگا۔

 

(‌قوله ‌ولزم ‌نفل ‌إلخ) أي لزم المضي فيه، حتى إذا أفسده لزم قضاؤه أي قضاء ركعتين، وإن نوى أكثر على ما يأتي، ثم هذا غير خاص بالصلاة وإن كان المقام لها. قال في شرح المنية: اعلم أن الشروع في نفل العبادة التي تلزم بالنذر ويتوقف ابتداؤها على ما بعده في الصحة سبب لوجوب إتمامه وقضائه إن فسد عندنا وعند مالك، وهو قول أبي بكر الصديق وابن عباس وكثير من الصحابة والتابعين كالحسن البصري ومكحول والنخعي وغيرهم، فخرج الوضوء وسجدة التلاوة وعيادة المريض وسفر الغزو ونحوها مما لا يجب بالنذر لكونه غير مقصود لذاته، وخرج ما لا يتوقف ابتداؤه على ما بعده في الصحة نحو الصدقة والقراءة، وكذا الاعتكاف على قول محمد، ودخل فيه الصلاة والصوم والحج والعمرة والطواف والاعتكاف على قولهما.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب الوترالنوافل، ج:2، ص:29)


فتویٰ نمبر : 11069/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں