بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

جسم پر ٹیٹو کے ساتھ وضو اور غسل کرنا


سوال

سکن کے اندر مستقل ٹیٹو بنوانے سے وضو اور غسل ہوجاتا ہے یا نہیں؟

جواب

جسم کے کسی حصہ کو سوئی وغیرہ کے ذریعے گدوا کر ٹیٹو بنانا شرعا ناجائز ہے، احادیث مبارکہ میں گودنے اور گودوانے والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، تاہم اگر کسی نے اپنے جسم پر ٹیٹو بنوالیا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے زائل کرنے کی کوئی ممکنہ صورت اختیار کرے، البتہ اگر اس کے زائل کرنے سے جسم کے کسی عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کو چھوڑدے اور اس پر توبہ واستغفار کرتا رہے۔ نیز ٹیٹو کے ساتھ وضو اور غسل درست ہے۔

 

عن ابن عمر، رضي الله عنهما: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ‌لعن ‌الله ‌الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة. (صحيح البخاری،كتاب اللباس،باب الوصل فی الشعر، ج:4، ص:1685)

يستفاد مما مر حكم ‌الوشم في نحو اليد، وهو أنه كالاختضاب أو الصبغ بالمتنجس؛ لأنه إذا غرزت اليد أو الشفة مثلا بإبرة ثم حشي محلها بكحل أو نيلة ليخضر تنجس الكحل بالدم، فإذا جمد الدم والتأم الجرح بقي محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه أثر يشق زواله؛ لأنه لا يزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا كان لا يكلف بإزالة الأثر الذي يزول بماء حار أو صابون فعدم التكليف هنا أولى... فإن لم يمكن إزالته إلا بالجرح فإن خيف منه الهلاك أو فوات عضو لم تجب وإلا وجبت، وبتأخيره يأثم، والرجل والمرأة فيه سواء. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطهارة، مطلب فی حكم الوشم، ج:1، ص:538)

(ولا يمنع) الطهارة (ونيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (وحناء) ولو جرمه به يفتى (ودرن ووسخ) عطف تفسير وكذا دهن ودسومة  (قوله: ودسومة) هي أثر الدهن. قال في الشرنبلالية قال المقدسي: وفي الفتاوى دهن رجليه ثم توضأ وأمر الماء على رجليه ولم يقبل الماء للدسومة جاز لوجود غسل الرجلين. (رد المحتار علی الدرالمختار، ج:1، ص:154)


فتویٰ نمبر : 11063/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں