بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

گھر میں شریک بھائیوں کو زکواۃ دینا


سوال

ایک گھر میں چار سگے بھائی رہتے ہیں۔ ان میں سے دو بھائی صاحبِ نصاب ہیں اور باقاعدہ کماتے ہیں، جبکہ تیسرا بھائی بھی کماتا ہے لیکن صاحبِ نصاب نہیں ہے، اور چوتھا بھائی دینی مدرسے میں زیرِ تعلیم ہے اور وہ بھی صاحبِ نصاب نہیں ہے۔ تیسرے اور چوتھے بھائی کے پاس اتنا مال  نہیں ہے کہ وہ شرعی نصاب کے مالک شمار ہوں۔ چاروں بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں اور چاروں بھائیوں کا کھانا پینا بھی مشترک ہے۔ دونوں بڑے بھائی صاحبِ نصاب ہیں اور وہ اپنے تیسرے اور چوتھے بھائی کی کفالت بھی کرتے ہیں۔ ایک مزید وضاحت یہ ہے کہ تیسرے بھائی کے نام پر سرکاری کاغذات میں ایک گاڑی درج ہے، لیکن وہ گاڑی حقیقتاً اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اس کے بڑے بھائیوں کی ملکیت ہے۔ تیسرے بھائی نے یہ گاڑی اپنی کمائی یا ذاتی رقم سے نہیں خریدی، بلکہ صرف سرکاری کاغذات میں گاڑی اس کے نام پر درج ہے۔ دریافت طلب امر: کیا دونوں صاحبِ نصاب بڑے بھائی اپنے تیسرے بھائی کو، جو کماتا ہے لیکن صاحبِ نصاب نہیں، اور اپنے چوتھے بھائی کو، جو دینی مدرسے میں زیرِ تعلیم ہے اور صاحبِ نصاب نہیں، زکوٰۃ دے سکتے ہیں؟ خصوصاً تیسرے بھائی کے نام پر سرکاری کاغذات میں گاڑی درج ہونے کی صورت میں، جبکہ گاڑی حقیقتاً بڑے بھائیوں کی ملکیت ہے اور تیسرے بھائی نے اسے اپنی کمائی یا ذاتی رقم سے نہیں خریدا، کیا اس گاڑی کی وجہ سے تیسرے بھائی کے مستحقِ زکوٰۃ ہونے پر کوئی اثر پڑے گا؟ نیز کیا چاروں بھائیوں کا ایک ہی گھر میں رہنا اور ان کا کھانا پینا مشترک ہونا زکوٰۃ دینے میں کوئی شرعی رکاوٹ پیدا کرتا ہے؟ یا اگر تیسرے اور چوتھے بھائی شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوں تو انہیں اسی مشترکہ گھر میں رہتے ہوئے زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟

 

جواب

واضح رہے کہ وہ مستحق بہن بھائی جن کا نفقہ آدمی پر عدالت کی طرف سے لازم نہ ہو، ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ البتہ وہ اس رقم کو گھر کے مشترکہ اخراجات میں استعمال نہیں کر سکتے، بلکہ اپنی دیگر ذاتی ضروریات میں خرچ کریں۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر ایک گھر میں رہنے والے صاحبِ نصاب بھائیوں پر دوسرے مستحق بھائیوں کا نفقہ عدالت کی طرف سے لازم نہ ہو، تو ان کو زکوٰۃ دینا جائز ہے، بشرطیکہ وہ اس رقم کو گھر کے مشترکہ خرچے میں استعمال نہ کریں  بلکہ اپنی ذاتی ضرورت میں خرچ کریں۔ اسی طرح تیسرے بھائی کے نام پر سرکاری کاغذات میں گاڑی درج ہونا مستحقِ زکوٰۃ ہونے سے مانع نہیں ہے۔

 

ومنها أن لا تكون منافع الأملاك متصلة بين المؤدي وبين المؤدى إليه؛ لأن ذلك يمنع وقوع الأداء تمليكا من الفقير من كل وجه بل يكون صرفا إلى نفسه من وجه وعلى هذا يخرج الدفع إلى الوالدين وإن علوا والمولودين وإن سفلوا؛ لأن أحدهما ينتفع بمال الآخر. (بدائع الصنائع، كتاب الزكوة، فصل شرائط ركن الزكاة، فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ج:2، ص49)

رجل يعول أخته أو أخاه أو عمه، فأراد أن يعطيه الزكاة إن لم يكن فرض عليه القاضي نفقته جاز، لأن التمليك من مولاه بصفة القربة يتحقق من كل وجه، فيتحقق ركن الزكاة. (المحيط البرهاني، كتاب الزكاة، ج:2، ص:288)


فتویٰ نمبر : 11077/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں