بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

غیر ملک میں مقدمہ درج کرکے ہرجانہ لینا


سوال

ایک بندہ باہر کسی ملک چلا گیا ،وہاں ایک غیر مسلم سے نوکری کے بارے میں بات کی،جب اس کو پتہ چلا ،تو اس نے اسلا م کے خلاف بات کی۔کیا یہ اس ملک کے قانون کے مطابق اس کے ساتھ مقدمہ لڑا سکتا ہے ؟اگر وہاں کی حکومت اس کو ہرجانہ دے ،تو اس کے لیے لینا جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی غیر ملک کے قانون  میں مذہب کے خلاف بات کرنے یا تقریر وغیرہ کرنے پر مقدمہ درج کرنے کاحق موجود ہو،تو مسلمان اس قانون کو استعمال کرسکتاہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس ملک کے قانون میں اسلام کے خلاف بات کرنے پر مسلمان کے لیے مقدمہ درج کرنے کا حق ہو،تو مقدمہ درج کر سکتاہے۔ اوراگر حکومت مجرم سے جرمانہ لے کر مدعی کو دے،تو اس کے لیے یہ جرمانہ لینا جائزہے۔

 

 لم ينفذ حكم الكافر على المسلم وينفذ للمسلم على الذمي۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار، كتاب القضاء، باب التحكيم،ج:5،ص:428)


فتویٰ نمبر : 6803/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں