بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مہر میں کمی کرنا


سوال

اگر کسی شخص نے نکاح کے وقت ایک لاکھ روپے مہر مقرر کیا ہو، پھر بعد میں اسی بیوی سے دوبارہ نکاح کرتے وقت پچاس ہزار روپے مہر مقرر کیا جائے، تو شرعاً کون سا مہر معتبر ہوگا ؟

جواب

 واضح رہے کہ مہر عورت کا حق ہے، وہ اپنی مرضی سے مہر میں کمی کر سکتی ہے، لیکن اس کی مرضی کے بغیر مہر میں کوئی کمی نہیں کر سکتا۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر پہلے نکاح کے وقت ایک لاکھ روپے مہر مقرر کیا گیا تھا، پھر نکاح کے برقرار ہوتے ہوئے اسی بیوی سے تجدید نکاح کیا گیا اور پچاس ہزار روپے مہر مقرر کیا گیا، تو اگر بیوی کی رضامندی سے پہلے مقررہ مہر میں کمی کی گئی ہو تو پچاس ہزار روپے ہی معتبر ہوں گے، اور اگر بیوی کی رضامندی شامل نہ ہو تو پہلے نکاح میں مقرر کردہ ایک لاکھ روپے مہر لازم ہو گا۔

 

 (وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا۔ (قوله وصح حطها) الحط: الإسقاط كما في المغرب، وقيد بحطها لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة، ولو كبيرة توقف على إجازتها، ولا بد من رضاها.(الدر المختار مع رد المحتار:كتاب النكاح،باب المهر،ج:4،ص:248)


فتویٰ نمبر : 7513/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں