بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

جائیداد میں حصے کے بدلے حج کروانا


سوال

دریافت کرنا ہےکہ بھائیوں نے بہنوں کو جائیداد میں ان کے حصہ کے بدلہ حج کروایا لیکن مدت دراز گزرنےکےبعد ایک بہن کے بیٹےنے اپنے ماموں سے اپنی والدہ کا جائیداد میں حصہ طلب کیا، اس پربھائیوں نےکہا کہ ہم نےجائیداد کے بدلہ تمہاری ماں یعنی اپنی بہن کوحج کروایا ہے اب سوال یہ ہے کہ جائیداد میں حصہ کے بجائے حج کروانا درست ہے یا نہیں؟کیا اس میں بہن کی رضامندی ضروری ہے یا نہیں؟اور کیا بیٹا اپنی ماں کا حصہ اپنے ماموں سے طلب کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  میراث ہر وارث کا ایک لازمی حق ہے ۔ وراثت میں اپنے مقررہ حصے کے بدلے کوئی اور چیز قبول کر کے دستبردار ہونے میں  وارث کی مکمل رضامندی کا پایا جانا ضروری  ہے۔ بغیر رضامندی  کے کسی کا حقِ وراثت ساقط نہیں ہوتا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر بھائیوں نے بہن کی رضامندی کے ساتھ اسے جائیداد کے بدلے حج کروایا ہو تو شرعاً یہ درست ہو گا۔ اس صورت میں بہن کا جائیداد سے حق ختم ہو گا ، لہٰذا اب بیٹے کو اپنی ماں کا حصہ اپنے ماموں سے طلب کرنے کا شرعاً کوئی حق نہیں ۔لیکن اگر بھائیوں نے بہن کی رضامندی  کے بغیر ہی اسے اپنی طرف سے حج کروا دیا تھا اور بہن حج کے بدلے اپنے حصہ میراث سے دستبردارنہ ہوئی ہو، تو یہ حج بھائیوں کی جانب سے ایک تبرع شمار ہوگا۔ اوراس صورت میں بیٹے کو  حق  ہوگا کہ وہ اپنے ماموں سے اپنی والدہ کا حصہ طلب کرے۔

 

قوله ثم شرع في مسألة التخارج تفاعل من الخروج وهو في الاصطلاح تصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث على شيء من التركة عين أو دين. (رد المحتارعلی الدرالمختار، كتاب الصلح، باب صلح الورثة، ج: 6، ص: 811)

 إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا. (الفتاوى الھندية، كتاب الصلح، الباب الخامس عشر في صلح الورثة والوصي في الميراث والوصية، ج: 4، ص: 268)

 وسببه طلب الخارج من الورثة ذلك عند رضا غيره به. (فتح القدير للكمال بن الهمام، كتاب الصلح، فصل في التخارج،

ج: 8، ص:439)


فتویٰ نمبر : 3859/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں