بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

ايانا، نام ركهنا


سوال

What do the respected scholars say regarding this matter: I have a class fellow whose name is 'Eyana'. So, is it permissible to keep the name 'Eyana' from an Islamic perspective or not? Kindly provide religious guidance...!!

اس معاملے کے بارے میں معتبر علماء کیا فرماتے ہیں؟ میری ایک ہم جماعت کا نام ایانا "Eyana" ہے۔ تو کیا اسلامی نقطۂ نظر سے "Eyana" نام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ "ایانا"، یعنی الف کے کسرہ اور یاء کے فتحہ کے ساتھ، اس املا کے ساتھ عربی لغات میں تلاش کے باوجود کوئی ایسا لفظ نہیں پایا البتہ إىّانا ضمیر منصوب منفصل ہے جس کا معنی ہے "ہمیں "اس نام کے بجائے کوئی دوسرا ایسا نام رکھا جائے جس کا اچھا معنی واضح اور مستند ہو۔

 

عن أبي الدرداء، قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:إنكم تدعون يوم القيامةبأسمائكم،وأسماءآبائكم، فأحسنوا أسمائكم۔(سن أبي داؤد،كتاب الأدب،باب في تغييرالأسماء، ج:2، ص:320)


فتویٰ نمبر : 6795/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں