بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

جانور کے بچے کو جانور پالنے کی اجرت مقرر کرنا


سوال

یہ پوچھنا ہے اگر ایک بندہ مال مویشی مثلا بکریاں وغیرہ کسی دوسرے کو لے کر دیتا ہے کہ آپ ان کو چرائیں اور ان کی دیکھ بھال کرالیں اور ان جانوروں سے پیداہونے والے بچے آدھا آدھا تقسیم کریں گے جو کچھ حصہ اپس میں طے کر لیں کیا یہ ٹھیک ہے؟ اگر نہیں تو اس کی جواز کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے ہر اس معاملے کو ممنوع قرار دیا ہے جس میں جہالت کی وجہ سے فریقین کے مابین باہمی نزاع کا خطرہ ہو۔ دیگر معاملات کی طرح اجارہ میں بھی یہ ضروری ہے کہ اجرت اور مدتِ اجارہ متعین ہوں، ورنہ عدمِ تعین کی صورت میں اجارہ فاسد ہو جاتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں چونکہ جانور کے بچے پیدا ہونے کا کوئی قطعی اور یقینی علم نہیں ہوتا، اس لیے جانور پالنے والے کے لیے پیدا ہونے والے بچوں کو اجرت میں مقرر کرنا جائز نہیں۔ اس کے متبادل جواز کی درج ذیل صورتیں ہیں:

 1۔مالک جانور کو پالنے کے لیے دے اور پالنے والے کی اجرت نقد رقم کی شکل میں طے کر لے۔ اس صورت میں حاصل ہونے والا دودھ اور تمام بچے مالک کے ہوں گے۔

 2۔مالک اپنے پیسوں سے جانور خریدے اور پھر اس کا آدھا حصہ پالنے والےکے ہاتھ آدھی قیمت پر بیچ دے، اور پھر مالک وہ پیسے پالنے والے  کو معاف کر دے۔ اس طرح وہ جانور دونوں کے درمیان مشترک ہو جائے گا۔ اس جانور سے جو بھی بچے پیدا ہوں گے، ان میں  دونوں اپنے حصوں کے تناسب سے شریک ہوں گے، اور اسی طرح دودھ میں بھی دونوں شریک ہوں گے۔

 

دفع بقرةً إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة...والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما. (الفتاوى الهندية، کتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو في معناه ج:4، ص:445)

رجل دفع بقرة إلى رجل بالعلف مناصفة وهي التي تسمى بالفارسية كاونيم سوو بأن دفع على أن ما يحصل من اللبن والسمن بينهما نصفان فهذا فاسد والحادث كله لصاحب البقرة والإجارة فاسدة. (خلاصة الفتاوی، کتاب الإجارة، ج:3، ص:114)

ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة و لأن الجهالة في العقود عليه وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن المثمن في البيع.(الهداية، كتاب الإجارة، ج:3، ص:231)


فتویٰ نمبر : 4202/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں