بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/08/2026

دارالافتاء

 

وصیت کئے بغير میت کی طرف سے حج بدل کرنا


سوال

ایک شخص پر حج فرض ہو چکا تھا، مگر اس نے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے حج نہیں کیا۔ اب اس کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے حج کی وصیت بھی نہیں کی۔ ورثا دریافت کرتے ہیں کہ اس کی طرف سے حج بدل کرانا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

جس شخص پر حج فرض ہو جائے اور وہ بلاعذر حج کی ادائیگی میں تاخیر کرتا رہے، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو جائے، تو اگر اس نے حجِ بدل کی وصیت نہ کی ہوتو  وہ گناہ گار ہوگا، اس صورت میں اس کی طرف سے  حج بدل کرانا  ورثا پرلازم نہیں ۔البتہ اگر ورثا اپنی خوشی اور رضامندی سے اپنے ذاتی مال سے مرحوم کی طرف سے حجِ بدل کرائیں، تو یہ نیکی اور احسان کا کام ہے۔ اس عمل سے امید ہے کہ  ان شاء اللہ مرحوم کے ذمے واجب حج کی ادائیگی  ہوجائے گی۔

 

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال:كان الفضل رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاءت امرأة من خثعم، فجعل الفضل ينظر إليها وتنظر إليه، وجعل النبي صلى الله عليه وسلم يصرف وجه الفضل إلى الشق الآخر، فقالت: يا رسول الله، إن فريضة الله على عباده في الحج أدركت أبي شيخا كبيرا، لا يثبت على الراحلة، أفأحج عنه. قال: (نعم). وذلك في حجة الوداع.(صحيح البخاري، كتاب الحج، باب: وجوب الحج وفضله، ج:2، ص:551، رقم الحديث:1442)

من عليه الحج إذا مات قبل أدائه فإن مات عن غير وصية يأثم بلا خلاف وإن أحب الوارث أن يحج عنه حج وأرجو أن يجزئه ذلك إن شاء الله تعالى، كذا ذكر أبو حنيفة - رحمه الله تعالى.(الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، الباب الخامس عشر في الوصية بالحج، ج:1، ص:258)

(ومنها) الأمر بالحج فلا يجوز حج الغير عنه بغير أمره إلا الوارث يحج عن مورثه بغير أمره فإنه يجزيه.(الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، الباب الرابع عشر في الحج عن الغير، ج:1، ص:257)


فتویٰ نمبر : 11070/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں