بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مخصوص کام کے لیے رکھی گئی رقم پر قربانی


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایامِ اضحیہ (قربانی کے دنوں) میں میرے پاس اتنی رقم تھی جس سے قربانی واجب ہوتی ہے، یعنی میرے پاس تقریباً سولہ سے اٹھارہ لاکھ روپے اکاؤنٹ میں موجود تھے۔ یہ رقم میرے چچا زاد نے مجھے دی تھی اور وجہ یہ تھی کہ میں عید کے بعد چین (China) جا رہا تھا ایم بی بی ایس (MBBS) کے لیے، یعنی جو رقم میرے پاس موجود تھی، وہ عید کے بعد اپنے مشیر(Consultant) کو جمع کروانا تھی اور ہوا بھی اسی طرح۔ واضح رہے کہ یہ رقم مجھے بطورِ ہبہ (تحفہ) ملی تھی، قرضہ نہیں تھی۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ ایامِ اضحیہ میں جو رقم میرے اکاؤنٹ میں موجود تھی اور میں اس کو ایم بی بی ایس کے اخراجات میں استعمال کرنا چاہتا تھا، کیا اس رقم کی وجہ سے قربانی واجب ہے یا نہیں؟ قربانی اگر واجب ہے تو کس پر واجب ہے؟ کیا قربانی میرے ذمے ہے یا میرے چچا زادکے ذمے ہے؟ اگر قربانی واجب ہے اور ایامِ اضحیہ گزر گئے ہیں، تو اس کی قضا کی کیا صورت ہے؟

جواب

کسی خاص کام یا ضرورت کے لیے رکھی گئی نقد رقم اگر قربانی کے ایام میں موجود ہو اور اس کی مالیت نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو اس رقم کی موجودگی کی وجہ سے قربانی واجب ہو جاتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر چچا زاد نے سائل کو مذکورہ رقم بطور ہبہ دی تھی اور قربانی کے ایام میں وہ سائل کے پاس موجود تھی تو سائل اس کا مالک شمار ہو کر اس پر قربانی واجب تھی۔ لیکن جب اس نے قربانی نہیں کی، تو اب تلافی کے لیے ایک متوسط (درمیانے درجے کے) بکرے، یا بکری کی قیمت صدقہ کرنا واجب ہے۔ اور اس کوتاہی پر سچے دل سے توبہ واستغفار بھی کرے۔

 

عن أبي هريرة،أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا.(سنن ابن ماجه، ج:2، ص:1044)

وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:191)

 (قوله: ولو تركت التضحية إلخ) شروع في بيان قضاء الأضحية إذا فاتت عن وقتها فإنها مضمونة بالقضاء في الجملة، كما في البدائع.(قوله: ومضت أيامها إلخ) قيد به لما في النهاية: إذا وجبت بإيجابه صريحا أو بالشراء لها، فإن تصدق بعينها في أيامها فعليه مثلها مكانها، لأن الواجب عليه الإراقة وإنما ينتقل إلى الصدقة إذا وقع اليأس عن التضحية بمضي أيامها، وإن لم يشتر مثلها حتى مضت أيامها تصدق بقيمتها، لأن الإراقة إنما عرفت قربة في زمان مخصوص ولا تجزيه الصدقة الأولى عما يلزمه بعد لأنها قبل سبب الوجوب اهـ (قوله: تصدق بها حية) لوقوع اليأس عن التقرب بالإراقة، وإن تصدق بقيمتها أجزأه أيضا لأن الواجب هنا التصدق بعينها وهذا مثله فيما هو المقصود اهـ ذخيرة. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الأضحية، ج:6، ص:320)

(و) فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقا كثيابه أو تقديرا كدينه …قلت: وأقره في النهر والشّرنبلالية وشرح المقدسي، وسيصرح به الشارح أيضا، ونحوه قوله في السراج سواء أمسكه للتجارة أو غيرها، وكذا قوله في التتارخانية نوى التجارة أولا، لكن حيث كان ما قاله ابن ملك موافقا لظاهر عبارات المتون كما علمت، وقال ح إنه الحق فالأولى التوفيق بحمل ما في البدائع وغيرها. (رد المحتار على الدرالمختار، ج:2، ص:262)


فتویٰ نمبر : 11067/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں