بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مریم نوازراشن کارڈ کے بیلنس سے کٹوتی کرکے نقد رقم لینا


سوال

مریم نواز راشن کارڈ  کو  ہر ماہ تقریباً تین ہزار بیلنس آتا ہے جو راشن کے لیے دیا جاتا ہے،  کچھ مخصوص دکانوں سے یہ راشن ملتا ہے۔اس کارڈ سے پیسے نہیں لے سکتالیکن بعض  اوقات ہمیں پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، کیا ہم پیسے لے سکتے ہیں؟نیز  راشن لینے کی صورت میں  تو تین ہزار کا ہی راشن دیتے ہیں،  البتہ اگر پیسے لیں تو تین سو کاٹ لیتے ہیں اور ستائیس سو دیتے ہیں۔    

جواب

واضح رہے کہ "مریم نواز راشن کارڈ" غریب عوام  کے لیے  مخصوص شرائط کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے صرف راشن حاصل کیا جا سکتا ہے، نقد رقم وصول نہیں کی جاسکتی۔ لہذا کسی اور کو یہ کارڈ دے کر اس سے پیسے وصول کرنا شرعا و قانونا ًدرست نہیں۔ اور دکاندار کو یہ اجازت نہیں  کہ وہ گاہک کونقد رقم دے اور یہ ظاہر کرے کہ اس نے  تین ہزار روپے کا راشن خریدا ہے۔  یہ  فریب اور دھوکہ ہے، اس لیے یہ عمل شرعاً درست نہیں ہے۔  البتہ اگر راشن کا مستحق  شخص راشن وصول کر لےاور اس کے بعد  وہ واپس فروخت کر کے رقم حاصل کرے تو اس کی گنجائش ہے۔

قال اللہ تعالی: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: 59]

عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب" (مسند أحمد، 36/ 504)

ومن اشترى شيئًا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض."  (الهداية في شرح بداية المبتدي، 3/ 59)


فتویٰ نمبر : 4209/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں