بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

"نورہ"نام رکھنا


سوال

دریافت کرناہے کہ "نُورہ"نام رکھنا کیساہے؟کیاصحابیاتؓ میں"نُورہ"نام ہےیانہیں؟نام کےمعنی کی بھی وضاحت کریں۔

جواب

 شریعتِ مطہرہ نے والدین کوبچوں کےلیے اچھے اورعمدہ نام رکھنے کا پابند کیا ہے۔عمدہ نام انبیاء علیہم السلام کے ہیں،انبیاء کرام کے بعد صحابہ وصحابیات کےناموں میں سےکوئی نام رکھنا بہترہے۔نیزجس نام کامعنی درست ہووہ بھی رکھ سکتےہیں۔عربی میں نُورکےمعنی روشنی اوراجالاکےہیں،اس لیے "نُور"نام ركهنادرست ہے۔البتہ "نُورۃ"کےمعنی چوناکے ہیں،اس لیےاس کی جگہ اگر کوئی دوسرامناسب نام رکھاجائےتوبہترہوگا،مثلاًنورالعین یعنی آنکھوں کا نوروغیرہ۔ نیز صحابیات میں سےیہ نام کسی کا نہ مل سکا۔

 

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم.(سنن أبي داؤد،كتاب الأدب،باب في تغيير الأسماء،رقم الحدیث،4948، ج:2،ص:320)

وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد،ج:5،ص:362)

(النور) الضوء وسطوعه.(المعجم الوسيط،باب النون:1003)

(النُورة) العلامة وحجر الكلس وأخلاط من أملاح الكالسيوم والباريون تستعمل لإزالة الشعر. (المعجم الوسيط،باب النون:1003)


فتویٰ نمبر : 6793/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں