بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ دکاندار کا پیسے نکلوانے پر اجرت لینا


سوال

ہمارا ہوٹل ہے جو کہ شہر سے دور ایک اہم شاہراہ پر واقع ہے ہمارے پاس اکثر گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات آتے ہیں اور ہم سے کہتے ہیں کہ ہمیں راہ سفر کیلئے رقم درکار ہے اور ہم آپ کے ایزی پیسہ یا بینک اکاؤنٹ کے ذریعے رقم منگواتے ہیں آپ کا جو خرچہ ہوگا ہم دے دیں گے اور یہ ایک دن کا کام نہیں ہے روزانہ کی بنیاد پر یہ ہوتا ہے، اب پیسہ منگوانے پر خرچہ یا تو آتا نہیں، یا بہت کم آتا ہے البتہ بینک کے سالانہ ٹیکسز ہوتے ہیں مگر یہاں یا ہر جگہ یہ چل رہا ہے کہ پیسہ منگوانے یا بھیجنے پر ایک ہزار پر بیس یا دس روپے لیتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں ایک ہزار پر بیس یا دس روپے شرعی احکام کے رو سے لینا کیسا ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی خاص فرد، کمپنی یا ادارہ کی طرف سے کسی کام کے کرنے پر مامور نہ ہو، بلکہ وہ عام لوگوں کو اجرت کے عوض خدمات دے رہا ہو، تو فقہا کی اصطلاح میں اس کو اجیر مشترک کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے خدمات کے عوض اجرت لینا جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق ہوٹل والا اگر ایزی پیسہ کا کام کرتا ہو، اور وہ اپنے عام اکاؤنٹ سے لوگوں کو پیسے نکلوانے پر اجرت لیتا ہو، تو اس کے لیے اجرت لینا جائز ہے، بشرطیکہ گاہک کے ساتھ اجرت پہلے سے طے کرتا ہو۔

 

الأجراء على  ضربين: مشترك، و خاص. فالأول: (من يعمل لا لواحد) كالخياط و نحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت) كأن استأجره للخياطة فی بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا و ان لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: ولا تر عى غنم غيري. (الدرالمختار، كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:9، ص:87)


فتویٰ نمبر : 4200/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں