بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بھیڑ بکریوں کی انشورنس کروانا


سوال

ايبٹ آباد كی ايک كمپنی کے تحت لوگ بھیڑ بکریوں کی انشورنس کراتے ہیں، مالکان فی بکری دو ہزار روپے سالانہ پریمیم ادا کرکے انشورنس کرواتے ہیں، انشورنس پالیسی کے تحت اگر بیمہ شدہ بکری شیر، چیتے، کتے یا گیدڑ کے حملے میں ہلاک ہو جائے، یا بیماری کے باعث مر جائے تو بکری کے مالک کو 50 ہزار روپے فی بکری معاوضہ ادا کیا جاتا ہے تو کیا یہ معاملہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ انشورنس یعنی بیمہ سود، قمار اور غرر پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے بیمہ کرنا ، کروانا حرام ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ معاملہ بھی چونکہ انشورنس کی ایک صورت ہے، اس لیے یہ ناجائز اور حرام ہے، البتہ جتنی رقم بطور پریمیم جمع کروائی ہو، اس کو واپس لینے کی گنجائش ہے۔

 

قال الله تعالی: ﴿ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ [المائدة: 90]

عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.(صحيح مسلم، کتاب المساقات، ج:3، ص:219)

وسمي القمار قمارا، لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص. (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:403)


فتویٰ نمبر : 4199/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں