بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال استعمال کرنا


سوال

کیا بیوی اپنے شوہر کے دیے ہوئے صدقے کی رقم کو، شوہر کی اجازت کے بغیر، اس کے قرض کی ادائیگی میں استعمال کر سکتی ہے، جب کہ شوہر خود قرض دار ہو اور ادا نہ کرتا ہو؟

جواب

واضح رہے کہ واجب الاداء قرض کی ادائیگی نفل صدقات دینے سے زیادہ مقدم اور لازمی ہے تاہم کسی دوسرے کے مال کو اس کی رضامندی کے بغیر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر شوہر نے اپنی ملکیت کی رقم صرف صدقہ کرنے کے لیے بیوی کو دی ہو، اسے مالک نہ بنایا ہو، تو بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر اس رقم کو شوہر کے قرض کی ادائیگی میں استعمال نہیں کرسکتی۔ البتہ اگر شوہر نے وہ رقم بیوی کو مالک بنا کر دے دی ہو تو بیوی اس رقم کو شوہر کے قرض کی ادائیگی میں استعمال کرسکتی ہے۔

 

حدثني شرحبيل بن مسلم الخولاني، قال: سمعت أبا أمامة الباهلي، يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ’’لا تنفق المرأة من بيتها شيئا إلا بإذن زوجها  قالوا: يا رسول الله! ولا الطعام؟ قال: ذلك أفضل أموالنا . ( سنن ابن ماجه ،باب ما للمرأة من مال زوجها، رقم الحديث:2295،ج:3،ص:394)

تصرف الإنسان في مال غيره لا يجوز إلا بإذن أو ولاية.(الجوهرة النيرة،كتاب الشركة،ج:1،ص:285)


فتویٰ نمبر : 7514/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں