بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

قضا روزوں کا حکم


سوال

اگر کسی سے  پچھلے رمضان کے روزےکسی عذر کی وجہ سے قضا ہوئے ہوں، تو وہ اس کی قضا کرے گا یا اس کا  فدیہ دے  گا؟

جواب

اگر کسی سے رمضان کے روزے کسی عذر کی وجہ سے قضا ہوئے ہوں،تو اس پرقضا لاز م ہے ۔البتہ اگر کوئی ایسی دائمی بیمار ی میں مبتلا ہوکہ جس کی وجہ سے وہ روزے نہیں رکھ سکتا اور تندرستی کی امید بھی نہ ہویا شیخ فانی ہو،تو  اس  پر روزے رکھنے  کی بجائے  فدیہ دینا واجب ہے۔

 

فإن برئ المريض أو قدم المسافر، وأدرك من الوقت بقدرما فاته فيلزمه قضاء جميع ما أدرك۔(الفتاوی الھندیة،كتاب الصوم ،الباب الخامس،ج:1،ص:207)

(وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا۔( الدرالمختار،كتاب الصوم،ص:150)

في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الصوم،ج:2،ص:427)


فتویٰ نمبر : 11073/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں