بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

صاحبین کا امام صاحب سے مسائل میں اختلاف کی وجہ


سوال

امام ابو حنیفہ کے شاگرد جو صاحبین حضرات ہیں ان کا بعض مسائل میں امام صاحب  کے ساتھ اختلاف پایا جاتا ہے حالانکہ ائمہ مجتہدین کے جو تلامذہ ہوتے ہیں وہ اپنے امام کے اصول میں ہی رہت ہوئے اس سے اختلاف کرتے ہیں تو بعض مسائل میں جو صاحبین نے اختلاف کیا ہے اور جس قول کو اختیار کیا ہے وہی مسلک امام شافعی کا بھی ہوتا ہے تو یہاں تو انہوں نے اپنے امام کے اصول سے ہٹ کر اختلاف کیا ہے جبکہ مشہور یہ ہے کہ مجتہدین مطلق کے تلامذہ اپنے امام کے اصول میں ہی رہتے ہوئے اس سے اختلاف کرتے ہیں جیسے وتر امام صاحب کے ہاں واجب ہے جبکہ جمہور کے ہاں سنت کا درجہ رکھتی ہے جن میں صاحبین بھی شامل ہیں  تو اس کی کیا وجہ ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اصول میں امام صاحب کے مقلد تھے اور مذہب کے اندر رہتے ہوئے  پھر خود مجتہد تھےلہذا امام صاحب کے شاگرد مقلد بھی تھے اور مجتہد بھی، مجتہد فی المذہب اپنے امام کے مقرر کردہ اصول و منہجِ استنباط کو اختیار کرتے ہوئے فروعی مسائل میں خود اجتہاد کرسکتا ہے، اس لیے نتیجہ امام کے قول سے مختلف بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒکے نزدیک امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کی حیثیت مجتہد فی المذہب سے بلند ہے۔  یعنی ان کے ہاں وہ دونوں حضرات مجتہدِ مطلق تھے، چنانچہ فرماتے ہیں أنهما مجتهدان مطلقان، مخالفتهما غير قليلة في الأصول والفروع یعنی  امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ مجتہدِ مطلق تھے، لہذا اصول و فروع دونوں میں ان کی مخالفت کم نہ تھی۔لہٰذا اگر کسی مسئلے میں صاحبینؒ کا قول امام شافعیؒ کے قول کے موافق ہوگیا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ انہوں نے امام شافعیؒ کے اصول اختیار کرلیےہیں ، بلکہ  اپنے اصول کے مطابق اجتہاد کرتے ہوئے نتیجہ نکالا ہے جو امام شافعی ؒکے  مذہب کے موافق ہوا۔

 

والثانية طبقة المجتهدين في المذهب كأبي يوسف ومحمد وسائر أصحاب أبي حنيفة رحمة الله القادرين على استخراج الأحكام عن الأدلة المذكورة على مقتضى القواعد التي قررها أستاذهم أبو حنيفة رحمة الله فانهم وان خالفوه في بعض أحكام الفروع لكنهم يقلدونه في قواعد الأصول وبه يمتزون عن المعارضين في المذهب ويفارقونهم كالشافعي ونظرائه المخالفين لأبي حنيفة رحمة الله في الأحكام غير مقلدين له في الأصول.( الجواهر المضية في طبقات الحنفية، فائده عجيبة في بيان طبقات الفقهاء، ج:2، ص:558)

قال أبو يوسف: ما قلت قولا خالفت فيه أبا حنيفة إلا قولا قد كان قاله.(رد المحتار علی الدر المختار، مقدمۃ، ج:1، ص:67)

وروى عن زفر أنه قال: ما خالفت أبا حنيفة في شيء إلا قد قاله ثم رجع عنه، فهذا إشارة إلى أنهم ما سلكوا طريق الخلاف، بل قالوا ما قالوا عن اجتهاد ورأي اتباعا لما قاله أستاذهم أبو حنيفة.(رد المحتار على الدر المختار، مقدمة، ج:1، ص:67)

وَإِنَّمَا عد مَذْهَب أبي حنيفَة مَعَ مَذْهَب أبي يُوسُف وَمُحَمّد رَحِمهم الله تَعَالَى وَاحِدًا مَعَ أَنَّهُمَا مجتهدان مطلقان مخالفتهما غير قَليلَة فِي الْأُصُول وَالْفُرُوع لتوافقهم فِي هَذَا الأَصْل.( الإنصاف في بيان أسباب الاختلاف للدهلوي، باب اسباب اختلاف مذاهب الفقهاء، ص:40)


فتویٰ نمبر : 6801/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں