بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

فارمیسی کی نگرانی کی صورت میں معاوضہ لینا


سوال

اگر ایک لائسنس ہولڈر صرف ہفتے میں ایک دو مرتبہ فارمیسی کا معائنہ کر لے، یا روزانہ ایک سے تین گھنٹے وہاں موجود رہے، تاکہ غیر معیاری ادویات نہ بکیں، تو کیا اس صورت میں لائسنس کے بدلے معاوضہ لینا جائز ہوگا؟ نیز اگر وہ روزانہ فارمیسی میں موجود رہ کر تمام پیشہ ورانہ امور اپنی نگرانی میں انجام دے، تو کیا پھر لائسنس کے بدلے رقم لینا جائز ہوگا؟

 

جواب

واضح رہے کہ فارمیسی کا لائسنس صرف ایک اجازت نامہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ پیشہ ورانہ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ قانون کے تحت لائسنس ہولڈر رجسٹرڈ فارماسسٹ کے لیے ضروری ہے کہ وہ فارمیسی کے ادویات سے متعلق امور کی ذاتی طور پر نگرانی کرے اور اپنی قانونی و پیشہ ورانہ ذمہ داریاں خود ادا کرے۔اس کا مقصد یہ  ہوتا ہے کہ لوگوں کی جان و صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

لہٰذا اگر لائسنس ہولڈر صرف ہفتے میں ایک دو مرتبہ معائنہ کر لے یا روزانہ ایک سے تین گھنٹے وہاں موجود رہے، جبکہ باقی وقت فارمیسی اس کی حقیقی نگرانی اور ذمہ داری کے بغیر چلتی رہے، تو ایسی صورت میں اپنے لائسنس کے استعمال کی اجازت دینا جائز نہیں۔البتہ اگر قانون کے مطابق تمام ذمہ داریاں ادا کرتا ہو جو ایک فارماسسٹ کے لیے ضروری ہوتی ہیں، اسی طرح  فارمیسی کے تمام امور کی مکمل   نگرانی کرتا ہو، اور جو معاوضہ وصول کرے وہ اس کی خدمات، وقت اور مہارت کے بدلے ہو، نہ کہ لائسنس کے استعمال کے عوض، تو ایسی اجرت لینا جائز ہے۔

 

قال اللہ تبارک و تعالی:﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ﴾ [النساء: 59]

وقال ابن عباس: {وأولي الأمر منكم} يعني أهل الفقه والدين، وكذا قال مجاهد وعطاء {وأولي الأمر منكم} يعني العلماء، والظاهر أنها عامة في كل أولي الأمر من الأمراء والعلماء كما تقدم.(مختصرتفسير ابن كثير،سورة النساء، ج:1، ص:408)

  وفی بحوث فی قضایا فقھیۃ:الترخیص التجاری:وما قلنا فی حکم الاسم التجاری والعلامۃ التجاریۃ من جواز الاعتیاض  عنھما یصدق علی الترخیص التجاری ...ولکن کل ذلک إنما یتاتی إذا کان فی الحکومۃ قانون یسمح بنقل ھذہ الرخصۃ الی رجل آخر ،أما إذا کانت الرخصۃ باسم رجل مخصوص أو شرکۃ مخصوصۃ ،ولا یسمح القانون بنقلھا إلی رجل آخر أو شرکۃ اخری ،فلا شبھۃ فی عدم جوازھا ، لأن بیعہ یؤدی  حینئذ إلی  الکذب والخدیعۃ ، فإن مشتری  الرخصۃ یستعملھا باسم البائع ، لا باسم نفسہ ، فلا یحل ذلک إلا بأن یوکل حامل الرخصۃ بالبیع و الشراء.(بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ،ج:1، ص:120)

“Rule 18 (1) (e) in case of pharmacy and distribution, the proprietor has appointed a person registered under clause (a) of sub-section (1) of section 24 of the Pharmacy Act, 1967 (XI of 1967) while in case of Medical store a qualified person registered under clauses (a) and (b) of sub-section (1) of section 24 of the Pharmacy Act, 1967 to personally supervise the sale of drugs.( The Khyber Pakhtunkhwa Drugs Rules, 1982 (as amended in 2017), Rule 18)

a person who is registered under section 24(1)(a) of the Pharmacy Act 1967 (XI of 1967) shall personally supervise the sale of drugs under licence in Form 9 (pharmacy) and a person who is registered under section 24(1) of the said Act shall personally supervise sale of drugs under license in Form 10 ( medical store)(Punjab Drugs Rules,2007,Rule 20)


فتویٰ نمبر : 4191/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں