بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادئیگی میں قیمت کے معیار کی تعیین


سوال

ایک عورت کے پاس 2008 میں شادی کے موقع پر دس یا گیارہ تولہ سونا تھا اور وہ ایک سال تک اس کے پاس رہا سال کے بعد سارا سونا بیچ دیا گیا لیکن سال گزر جانے پہ اس عورت نے زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی اب اگر وہ زکوٰۃ ادا کرنا چاہے تو کس حساب سے ادائیگی ہوگی،  2009 میں جو سونے کی قیمت تھی یا موجودہ دور کی قیمت کے حساب سے ؟

جواب

اگر کہیں غفلت کی وجہ سے کسی شخص سے زکوۃ کی ادائیگی رہ جائے تو بعد میں بھی اس کی ادائیگی ذمے پر لازم ہوگی، نیز پچھلے سالوں کی زکوۃ ادا کرتے ہوئے ادائیگی کے وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق مذکورہ عورت پر ادائیگی کے وقت سونے کی جو قیمت ہو اس کے اعتبار سے زکوۃ کی رقم ادا کرنا واجب ہے۔

 

تعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء. قوله: (وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح). (ردالمحتار علی الدر المختار، كتاب الزكوة، باب زكوة الغنم، ج:3، ص:211)


فتویٰ نمبر : 11064/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں