بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/10/2026

دارالافتاء

 

دن کے وقت نوافل میں بلند آواز سے قراءت کرنا


سوال

میرے پاس حفظ  قرآن کی ایک کلاس ہے، جس میں بعض طلبہ دن کے وقت آتے ہیں۔ ان میں سے دو طلبہ نفل نماز باجماعت پڑھتے ہیں اور نفل نماز میں قرآن پاک کا دور کرتے ہیں۔ کیا اشراق کے وقت، چاشت کے وقت یا ظہر کی نماز کے بعد نوافل میں بلند آواز سے قراءت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

فقہ حنفی کی رو سے نوافل کی جماعت کے لیے اگر دعوت دی جائے اور کثیر تعداد میں افراد نفل با جماعت پڑهتے ہوں تو یہ مکروہ ہے۔ البتہ ایک یا دو مقتدیوں کا نفل کی جماعت کرنا بلا کراہت جائز ہے۔ نیز نفل نماز میں قراءت کے جہر و اخفاء کا حکم نماز کے وقت کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے۔ دن کے اوقات میں نوافل میں قراءت آہستہ کرنا لازم ہے جبکہ رات کے نوافل میں جہر و اخفاء دونوں کی گنجائش ہے اور اگر نفل باجماعت ہو تو امام جہر ہی  کرے گا۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر صرف دو طلبہ باجماعت نفل پڑھتے ہوں تو یہ بلا کراہت جائز ہے البتہ دن کے وقت اشراق، چاشت اور ظہر کے بعد نوافل چونکہ دن کے نوافل ہیں اس لیے ان میں قراءت آہستہ آواز سے کرنا لازم ہے، بلند آواز سے قراءت کرنا جائز نہیں۔

 

أن المتنفل بالنهار يجب عليه الإخفاء مطلقا والمتنفل بالليل مخير بين الجهر والإخفاء إن كان منفرداأما إن كان إماما فالجهر واجب. (البحر الرائق، كتاب الصلاة، ج:1، ص:355)

وأما نوافل النهار فيخفي فيها حتما وفي نوافل الليل يتخير. كذا في الزاهدي.(الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، ج:1، ص:72)

وفي التطوع بالنهار يخافت وفي الليل يتخير اعتبارا بالفرد في حق المنفرد وهذا لأنه مكمل له فيكون تبعا له. )الهداية، كتاب الصلاة، فصل في القراءة، ج:1، ص:45)

أما اقتداء واحد بواحد أو اثنين بواحد فلا يكره، وثلاثة بواحد فيه خلاف بحر عن الكافي وهل يحصل بهذا الاقتداء فضيلة الجماعة؟ ظاهر ما قدمناه من أن الجماعة في التطوع ليست بسنة يفيد عدمه تأمل. بقي لو اقتدى به واحد أو اثنان ثم جاءت جماعة اقتدوا به. قال الرحمتي: ينبغي أن تكون الكراهة على المتأخرين. اهـ.قلت: وهذا كله لو كان الكل متنفلين، أما لو اقتدى متنفلون بمفترض فلا كراهة كما نذكره في الباب الآتي. )رد المحتارعلى الدر المختار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:49)


فتویٰ نمبر : 11060/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں