بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجیر کے عمل کو اجرت بنانا


سوال

اگر کسی شخص کی ملکیت میں چلغوزے کے درخت ہوں اور وہ کسی دوسرے شخص کو اس شرط پر پھل توڑنے دے کہ ’’ان درختوں کے پھل توڑ لو، آدھے پھل تمہارے ہوں گے اور آدھے میرے، تو کیا یہ معاملہ قفیز الطحان  کے حکم میں داخل ہوگا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی عمل كی اُجرت اسی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی چیز سے مقرر کرنا فقہ کی اصطلاح میں قفیز الطحان کہلاتا ہے۔   جیسے :گندم پیسنے کے اُجرت اسی گندم سے نکلنے والے آٹے کا کچھ حصہ مقرر کیا جائے۔حدیث مبارکہ میں اگر چہ اس معاملہ سے منع کیا گیا ہے لیکن محدثین نے اس روایت  کی سند میں کلام کیا ہےاور حدیث کے متن میں بھی تاویل کے امکان کو ظاہر کرکےاس کو مقدار کے مقررنہ ہونے پر محمول کیا ہےاسی طرح اگر تاویل نہ بھی کی جائے تب بھی دیگر جزئیات پر حکم بعض فقہاء کے نزدیک چونکہ قیاس کے قبیل سے ہے اور قیاس سے جو حکم ثابت ہو اور عرف ورواج اس کے خلاف ہو تو قیاس کو چھوڑا جاسکتا ہے ۔

اس لیے صورتِ مسئولہ میں اگر اجیر کواس شرط پر پھل توڑنے کے لیے  رکھا جائے کہ ان میں سے آدھے پھل آپ کے ہوں گے ،اورعرفِ عام میں یہ طریقہ مروج ہو، تو عرف کو معتبر مانتے ہوئے مشائخِ بلخ کے قول کے مطابق  یہ عمل جائز ہوگا۔

 

صورة ‌قفيز ‌الطحان ‌أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك.(الفتاوی الهندية، كتاب الإجارة، الفصل الثالث في قفيز الطحان، ج:4، ص:444)

فإن ‌العرف ‌معتبر ‌إن ‌كان ‌عامًّا، فإن العرف العام يصلح مخصصًا كما مر عن التحرير،ويترك به القياس كما صرحوا به في مسألة الاستصناع ودخول الحمام والشرب من السقا.(مجموعة رسائل ابن عابدين، الرسالة الرابعة والعشرون، الباب الأول إذاخالفاالعرف الدليل الشرعي، ج:2، ص:158)

قوله: (لا بَأْسَ أَنْ يُعْطِيَ الثَّوْبَ بالثُّلُثِ) … إلخ، ‌وتسمَّى ‌عندنا ‌بقَفِيز ‌الطَّحَّان، وهي إعطاءُ الأجير أُجْرَتَهُ مما حَصَلَ له من عمله. وأجازه مشايخ بَلْخ، فلذا لا أتشدَّد فيه، وللقول المشهور قوله: نهى رسولُ الله صلى الله عليه وسلم عن قَفِيزِ الطَّحَّان.(فيض البارى على صحيح البخاري، ج:3، ص:547)


فتویٰ نمبر : 4202/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں