بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کاٹنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا


سوال

ہماری مسجد کے جو امام صاحب ہیں، وہ داڑھی تقریباً کلی طور پر کاٹتے ہیں، اور میں نےان کو وضو کرتے ہوئے دیکھا  ہے کہ وہ پاؤں دھوتے وقت چپل بھی نہیں ا تارتےبلکہ  نلکے کے نیچے پکڑ لیتے ہیں، آس پاس قریب کوئی مسجد نہیں ۔ تو کیا  ان کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا اکیلے پڑھیں؟

جواب

واضح رہے کہ داڑھی رکھنا واجب ہےاور اسے  منڈوانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہِ کبیرہ ہے، اس کا مرتکب فاسق اور گناہ گار ہے،جو شخص داڑھی کاٹ کر ایک مشت سے کم کرے یا مونڈھے ایسے شخص کو مستقل   امام بنانااور  اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ  ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا اکیلے نمازسے بہتر ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق کلی طور پر داڑھی کٹوانے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا اکیلے نماز سے بہتر ہے،تاہم وضو میں ایک مرتبہ پاؤں دھونا فرض ہے اور  چپل اتارے بغیر پاؤں دھونے سے پاؤں کا کچھ حصہ خشک رہنے کا اہتمال ہوتا ہے  ۔لہذا چپل اتارے بغیر پاؤں دھونے والے  امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے ۔

 

وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:2،ص:418)

لو صلى خلف فاسق أو مبتدع ينال فضل الجماعة.(البحرالرائق،كتاب الصلوٰۃ،باب الإمامة،ج:1،ص:370)

(وغسل اليدين) أسقط لفظ فرادى لعدم تقييد الفرض بالانفراد (والرجلين) الباديتين السليمتين، فإن المجروحتين والمستورتين بالخف وظيفتهما المسح (مرة) لما مر (مع المرفقين والكعبين) على المذهب.(ردالمحتار علی الدرالمختار،کتاب الطهارة،أركان الوضو،ج:1،:98)


فتویٰ نمبر : 6789/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں