بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

زوجہ مفقود کے لئے فسخ نکاح کا طریقۂ کار


سوال

عرض ہے کہ ھندہ کا نکاح / زید مفقود سے ہوا تھا۔ موصوف سن2016 سے روزگار کے سلسلے میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں مقیم تھے اور پاکستان تشریف نہیں لائے۔کل ملا کر تقریباً 10 سال سے وہ گھر سے باہر تھے۔22 جولائی 2022 کو ہمیں ان کے لاپتہ ہونے کا علم ہوا۔بعد ازاں مختلف افراد نے ٹیلی فون پر اطلاع دی کہ ان کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا ہے۔ تاہم ہمارے پاس نہ لاش ہے، نہ موت کا سرکاری سرٹیفکیٹ، نہ 2 عادل گواہوں کی شرعی شہادت موجود ہے۔ صرف زبانی خبریں ہیں۔متوفی کے قریبی دوست بھی یہی اطلاع دیتے ہیں اور خود ھندہ نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھ کر استخارہ کیا  اس نیت سے کہ مجھے اللہ اپنے شوہر سے ملوائے انکے حال احوال سے واقفیت حاصل ہو یہ پتہ چلے کہ میرا شوہر حیات ہے کہ نہیں تو جواب میں اللہ سبحانہ و تعالٰیٰ نے مفقود کی زیارت نصیب فرمائ ان  کی حالت کچھ اسطرح تھی کہ وہ چہرہ نہیں دکھا رہے تھے ان کا چہرہ زمین کی طرف جیسے بندہ الٹا لیٹا ہوا ہو دونوں  ہاتھ زمین پر تھے اس کیفیت  میں زید نے اپنی زوجہ سے خود فرمایا کہ میری بیگم یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا  ہے خود کو سنبھالو میں اس دنیا میں نہیں ہوں میں واپس کبھی نہیں آسکتا اور اسی طرح ہماری کئ علمائے کرام سے جن کے رسوخ ساؤتھ افریقہ میں کافی ہیں  انھوں نے معلومات کیں اور اسطرح فرمایا کہ انکے جن بندوں سے معاملات تھے انہوں نے زید کو نقصان پہنچایا ہے اور شاید وہ اس دنیا میں نہیں اب سائلہ شدید ذہنی اذیت میں ہے اور شریعت کےمطابق اپنی زندگی کا فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا آپ سے دست بستہ گزارش ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:

کیا صرف اس خبر کی بنیاد پر سائلہ عدت گزار کر دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟

یا عدالت سے"مفقود الخبر" کا فیصلہ لینا ضروری ہے؟

اگر عدت لازم ہے تو اس کی مدت کیا ہوگی؟

 

جواب

جس عورت کا شوہر اس طرح گم ہو جائے کہ اس کی زندگی اور موت کا کچھ پتہ نہ چلے اور اس سے مزید انتظار اور صبر نہ ہوسکتا ہو، تو ایسی مجبوری میں امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ عورت مسلمان حاکم کی عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور گواہوں کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ فلاں شخص اس کا شوہر ہے، پھر گواہوں ہی کے ذریعے اس کا لاپتہ ہونا بھی ثابت کرے۔ اس تمام کارروائی کے بعد قاضی ہر ممکن صورت سے اس شخص کی تفتیش و تلاش کروائے۔ جب قاضی اس شخص کے ملنے سے بالکل ناامید ہو جائے، تو عورت کو چار سال انتظار کرنے کا حکم دے۔ اگر ان چار سالوں میں شوہر آ جائے تو بہت خوب، ورنہ مدت پوری ہونے پر عورت دوبارہ عدالت میں درخواست پیش کرے، جس پر قاضی شوہر کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے۔ اس کے بعد عورت چار ماہ دس دن عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں سائلہ محض سوال میں ذکر کردہ خبروں کی بنیاد پر عدت گزار کر دوسرا نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ عدالت سے "مفقود الخبر" کا فیصلہ لینا ضروری ہے۔ نیزاگر سائلہ کے لیے چار سال کی مدت گزارنا مشکل ہواور معصیت میں مبتلا ہونے کا قوی خطرہ ہو، تو اس صورت میں اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ قاضی چار سال کے بجائے صرف ایک سال کے انتظار کا حکم دے اور ایک سال گزرنے پر عورت کے طلب کرنے پر اس کا نکاح فسخ کر دے۔ اس صورت میں فسخِ نکاح کے بعد عورت چار ماہ دس دن عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔

 

وأما المفقود في بلاد الإسلام الي قوله فلها ان ترفع امرها الي الخليفةأو القاضي أو من يقوم مقامهما في عدمهما ليتفحصوا من حال زوجها بعد أن تثبت الزوجيةوغيبة الزوج والبقاء في العصمة الی الآن۔۔۔ الخ"(الحيلة الناجزه، ص: 127)

قال مالك والأوزاعي:إلى أربع سنين، فينكح عرسه بعدها كما في النظم، فلو أفتى به موضع الضرورة، ينبغي أن لا بأس به على ما أظن۔ (القهستاني، شمس الدين محمد، جامع الرموز، كتاب المفقود، ج:3، ص: 390)

ومذهب الحنفية في الباب، وإن كان قوياّ روايةّ و درايةّ، ولكن المتأخرين منا قد أجازوا الإفتاء بمذهب مالك عند الضرورة نظراّ إلى فساد الزمان۔ (إعلاء السنن، كتاب المفقود، باب إمرأته حتى ياتيها البيان، ج:13، ص:67)


فتویٰ نمبر : 7511/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں