بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

CP FUND، کاشرعی حکم


سوال

خیبر پختونخوا حکومت نے نئے سرکاری ملازمین کے لیے روایتی پنشن کا سلسلہ ختم کر کے ایک نیا نظام شروع کیا ہے جسےContributory Pension Fund (CP Fund) کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت حکومت نے ملازمین کی پنشن کی رقم کو مختلف کمپنیوں اوربینکوں (جیسے پاک قطر فیملی تکافل،المیزان بینک یا کچھ دیگر بینکوں کے پاس انویسٹ (سرمایہ کاری) کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فنڈ کےکام کرنے کا طریقہ کارکچھ اس طرح ہے:ملازم کا حصہ: ہرمہینے ملازم کی بنیادی تنخواہ (Basic Salary) سے ایک خاص فیصد یعنی 10 فیصد رقم کاٹی جاتی ہےاورحکومت بھی اس میں اپنی طرف سے 12 فیصد حصہ ڈالتی ہے جو کل ملا کر22 فیصد بنتی ہے۔ یہ مشترکہ رقم (22 فیصد) کے پی کے حکومت سے منظورشدہ 13 کمپنیوں (جیسے پاک قطر فیملی تکافل یا دوسرے کچھ بینکوں) کے پاس جمع کرائی جاتی ہے، جہاں اس رقم کو مختلف کاروباریا فنڈزمیں لگایا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے وقت ملازم کو اس کی اپنی جمع شدہ رقم، حکومت کا حصہ اوراس پرملنے والا نفع ملا کردیا جاتا ہے۔ اس میں 20 فیصد رقم یکمشت ملتی ہےاورباقی 80 فیصد پہ پنشن ملتا رہتا ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں براہِ کرم درج ذیل امورپررہنمائی فرمائیں:1۔ کیا خیبر پختونخوا حکومت کے ملازمین کے لیے اس "Contributory Pension Fund" کے تحت پاک قطر فیملی تکافل یا دیگر بینکوں کےفنڈزمیں رجسٹریشن کروانا شرعاً جائز ہے؟ 2۔ چونکہ ملازم کے پاس ان کمپنیوں یا بینکوں کےانتخاب کا جزوی اختیارہوتا ہے، توکیا اس میں رجسٹریشن لازمی (Compulsory) ہونے کی صورت میں اوراختیاری (Voluntary) ہونے کی صورت میں شرعی حکم تبدیل ہوگا؟ ریٹائرمنٹ کے وقت اس فنڈ سے ملنے والی کل رقم (جس میں ملازم کا حصہ، حکومت کا حصہ اور کمپنی سےملنےوالے منافع شامل ہیں) کواستعمال کرنا ملازم کے لیے حلال ہوگا یا اس میں سود کا کوئی شبہ ہے؟اگرکوئی ادارہ خود کو شریعہ کمپلائنٹ یا تکافل پرمبنی قراردیتا ہو، تو کیا اس کےساتھ رجسٹریشن کرنا درست ہوگا؟ جیسا کہ المیزان ادارے کا اس حوالے سے ایک فتوی بھی لکھا ہواموجودہےاورپاک قطرفیملی تکافل کمپنی یہ بھی کہتی ہے کہ ان کا باقاعدہ شریعہ بورڈ ہے جو اس فنڈ کی منیجمنٹ پرباقاعدہ نظر رکھتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ خیبر پختونخواحکومت کی جانب سے نئے سرکاری ملازمین کے لیے لاگو کردہ کنٹریبیوٹری پنشن فنڈ(CP Fund) کےتحت اختیاری رجسٹریشن کی صورت میں ان کمپنیوں میں رجسٹریشن کرناجائزہے جومستند شریعہ بورڈ اور معتمد علمائے کرام کی نگرانی میں کام کرتی ہوجب کہ سودی کمپنیوں میں اكاؤنٹ كهول كرسرمایہ کاری کرناجائزنہیں۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ اگرشرعی طورپرکسی مستند کمپنی میں رجسٹریشن کی ہوتوريٹائرمنٹ کے وقت ملازم کی تنخواہ سے کاٹا جانےوالا10 فیصد اورحکومت کی طرف سے ملنےوالا 12 فیصداوراس سےحاصل شدہ منافع  لیناجائز ہے ۔

 

عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبهات استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا إن حمى الله في أرضه محارمه،ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب).( صحيح البخاري،رقم الحدیث:56،ج:1،ص:28)

(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك.( البحر الرائق، ج:7،ص:300)

والأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل من غير شرط أو باستيفاء المعقود عليه.(مختصر القدوري،ص:103)


فتویٰ نمبر : 4195/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں